وہ امر خارق عادت ظاہر ہو جو اس نے ارادہ کیا ہے۔ مولوی صاحب نوراللہ کے بجھانے کے لئے بہت زور سے پھونکیں مار رہے ہیں۔ دیکھئے اب سچ مچ وہ نور بجھ جاتا ہے یا کچھ اور کرشمہ قدرت ظہور میں آتا ہے۔۹ ؍اپریل ۱۸۹۱ ؁ء کے خط میں جو انہوں نے میرےؔ ایک دوست مولوی سیّد محمد احسن صاحب کے نام بھوپال میں بھیجا تھا عجیب طور کے فقرات تحقیر کے استعمال کئے ہیں۔ آپ سیّد صاحب موصوف کو لکھتے ہیں کہ آپ اس شخص پر جلدی سے کیوں ایمان لے آئے اس کو ایک دفعہ دیکھ تو لیا ہوتا۔ مولوی صاحب نے اس فقرہ اور نیز ایک عربی کے فقرہ سے یہ ظاہر کرنا چاہا ہے کہ یہ شخص محض نالائق اور علمی اور عملی لیاقتوں سے بکلّی بے بہرہ ہے اورکچھ بھی چیز نہیں۔ اگر تم دیکھو تو اس سے نفرت کرو۔ مگر بخدا یہ سچ اور بالکل سچ ہے اور قسم ہے مجھے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ درحقیقت مجھ میں کوئی علمی اورعملی خوبی یا ذہانت اوردانشمندی کی لیاقت نہیں اور میں کچھ بھی نہیں۔ ایک غیب میں ہاتھ ہے جو مجھے تھام رہا ہے اور ایک پوشیدہ روشنی ہے جو مجھے منور کر رہی ہے اور ایک آسمانی روح ہے جو مجھے طاقت دے رہی ہے۔ پس جس نے نفرت کرنا ہے کرے۔ تامولوی صاحب خوش ہوجائیں بخدا میری نظر ایک ہی پرہے جو میرے ساتھ ہے۔ اور غیر اللہ ایک مرے ہوئے کیڑے کے بر ابر بھی میر ی نظر میں نہیں۔ کیا میرے لئے وہ کافی نہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ میں یقینًا جانتا ہوں کہ وہ اِس تبلیغ کو ضائع نہیں کرے گا جس کو لے کر میں آیا ہوں۔ مولوی صاحب جہاں تک ممکن ہے لوگوں کو نفرت دلانے کے لئے زور لگالیں اور کوئی دقیقہ کوشش کا اُٹھا نہ رکھیں اور جیسا کہ وہ اپنے خطوط میں اور اپنے رسالہ میں اور اپنی تقریروں میں باربار ظاہر کر چکے ہیں کہ یہ شخص نادان ہے جاہل ہے گمراہ ہے مفتری ہے دوکاندا رہے بے دین ہے کافر ہے ایساہی کرتے رہیں اورمجھے ذرہ مہلت نہ دیں مجھے بھی اس ذات کی عجیب قدرتوں کے دیکھنے کاشوق ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ لیکن اگر کچھ تعجب ہے تو اس بات پر ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ عاجز مولوی صاحب کی نظر میں جاہل ہے بلکہ خط مذکورہ بالا میں یقینی طورپر مولوی صاحب نے لکھدیا ہے کہ یہ شخص ملہم نہیںیعنی مفتری ہے اور یہ دعویٰ جو اس عاجز نے کیا ہے مولوی صاحب کیؔ نظر میں بدیہی البطلان ہے