عزیز من ! مولوی محمدحسین صاحب پر اللہ تعالیٰ رحم فرماوے ان کو اپنے علم وفضل پر بڑا گھمنڈ ہے اور اللہ کریم کو گھمنڈ پسند نہیں۔ الہامی جماعت کی مخالفت بھی تمہیں ٹھوکرکا باعث نہ ہو۔ ازالہ اوھام میں اس کا عجیب وغریب جواب موجود ہے اور نصحًامیں کہتا ہوں 333 ۱؂ اور تمنّی پر آیت 33 ۲؂۔آپ فکر کرتے رہیں۔ بھائی صاحب ! مرزا جی اس صدی کے مُجَدّد ہیں اور مجدد اپنے زمانہ کا مھدی اور اپنے زمانہ کے شدّت مرض میں مبتلا مریضوں کا مسیح ہواکرتاہے اور یہ امر بالکل تمثیلی ہے جیسے مرزا جی اپنی الہامی رباعی میں ارقام فرما چکے ہیں۔ رُباعی کیاؔ شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتادیا حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا میں اب اس خط کو ختم کرناچاہتا ہوں۔ مولوی محمد حسین صاحب کی اشاعت پر اللہ تعالیٰ جو فیضان کرے گا اس کا اظہار پھر ہو رہے گا۔ یار باقی صحبت باقی۔ آخر میں یہ شعر تمہیں سُناکر اور ایک تحریک کرکے بس کرتا ہوں۔ ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دُکھ کی دوا کرے کوئی ہمارے مخالف الرائے مولوی صاحبوں کا حوصلہ خدائے تعالیٰ نے پورے طورپر جلوہ قدرت دکھلانے کے لئے ایک ایسے نامی مولوی صاحب سے ہمیں ٹکرا دیا جنکی لیاقت علمی جنکی طاقت فہمی جنکی طلاقت لسانی جنکی فصاحت بیانی شہرۂ پنجاب وہندوستان ہے اور خدائے حکیم وعلیم کی مصلحت نے اس ناکارہ کے مقابل پر ایساانہیں جوش بخشا اور اس درجہ کی بدظنی میں انہیں ڈال دیا کہ کوئی دقیقہ بدگمانی اور مخالفانہ حملہ کا انہوں نے اُٹھا نہیں رکھا۔ تا اس کا