جس کا قرآن وحدیث میں کوئی اثر ونشان نہیں پایاجاتا۔ پھر مولوی صاحب پرڈر اس قدر غالب ہے کہ آپ ہی بحث کے لئے بلاتے اور آپ ہی کنارہ کرجاتے ہیں۔ ناظرین کو معلوم ہوگا کہ مولوی صاحب نے ایک بڑے کرّوفر سے ۱۶؍اپریل ۱۸۹۱ ء کو تار بھیج کر اس عاجز کو بحث کے لئے بلایا کہ جلد آؤ اورآکر بحث کرو ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے۔ اُس وقت بڑی خوشی ہوئی کہ مولوی صاحب نے اس طرف رُخ تو کیا۔ اور شوق ہوا کہ اب دیکھیں کہ مولوی صاحب حضرت مسیح ابن مریم کے زندہ مع الجسد اُٹھائے جانے کا کونسا ثبوت پیش کرتے ہیں یا بعد موت کے پھر زندہ ہوجانے کا کوئی ثبوت قرآن کریم یا حدیث صحیح سے نکالتے ہیں چنانچہ لدھیانہ میں ایک عام چرچا ہوگیا کہ مولوی صاحب نے بحث کے لئے بلایا ہے اور سیالکوٹ میں بھی مولوی صاحب نے اپنے ہاتھ سے خط بھیجے کہ ہم نے تارکے ذریعہ سے بلایا ہے۔ لیکن جب اس عاجز کی طرف سے بحث کے لئے تیاری ہوئی اورمولوی صاحب کو پیغام بھیجا گیا تو آپ نے بحث کرنے سے کنارہ کیا اوریہ عذرپیش کر دیا کہ جب تک ازالہ اوہام چھپ نہ جائے ہم بحث نہیں کریں گے۔ آپ کو اُس وقت یہ خیال نہ آیا کہ ہم نے تو بلانے کے لئے تار بھیجی تھی۔ اور یہ بھی ایک خط میں لکھا تھا کہ ہمیں ازالہ اوہام کے دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اور یہ بھی بار بار ظاہر کردیا تھا کہ یہ شخص باطل پر ہے۔ اب ازالہ اوہام کی ضرورت کیوں پڑگئی۔ تار کے ذریعہ سے یہ پیغام پہنچاناکہ آؤ ورنہ شکست یافتہ سمجھے جاؤ گے اور حبّی فی اللہ اخویم حکیم نور دین صاحب پرناحق یہ الزام لگانا کہ وہ ہمارے مقابلہ سے بھاگ گئے اور پھر درخواست بحث پر ازالہ اوہام یاد آجانا عجیب انصاف ہے۔ مولوی صاحب دعوی اس عاجز کا سُن چکے تھے۔ فتح اسلام اور توضیح مرام کو دیکھ چکے تھے اب صرف قرآن اور حدیث کے ذریعہ سے بحث تھی جس کو مولوی صاحب نے وعدہ کر کے پھر ٹال دیا۔