فرمایا میں نے تو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیاہے۔ ممکن ہے کہ مثیل مسیح بہت آویں اورکوئی ظاہری طور پر بھی مصداق ان پیشین گوئیوں اور نشانات کا ہو جن کو میں نے روحانی طور پر الہامًا اپنے پر چسپاں کیا ہے۔ الٰہی فیضان کی کوئی حد نہیں اور نہ وہاں کوئی کمی ہے تب میں نے عرضؔ کیا کہ ایسی صورت میں احادیث کے باعث لوگ کیوں اشکال میں پھنسے ہوئے ہیں؟ تعجب ہے۔ مگر عزیز من ! 33 ۱؂ پر دھیان کرو۔ سنو اور غور سے سنو! پیشین گویوں کے پورا ہونے کے واسطے اوقات مقدرہ ہوا کرتے ہیں۔ جیسے میں نے تین سوالوں کے جواب میں مفصل لکھاہے اور وہ جواب انجمن حمایت اسلام لاہور نے طبع کرایاہے۔ مثلًا حضور علیہ السلام کو مکّہ کے کفار کہتے ہیں33 ۲؂ آپ کے منکرین نے یہ طلب کیوں کی تھی صرف اسی بناء پر کہ حضور سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشن گوئی کے سمجھنے میں بالکل ظاہری الفاظ کے معنوں پر موٹی نظر کی تھی۔ وہ پیشین گوئی یسعیاہ نبی کے ۴۳ باب ۱۹ کی ہے۔ یسعیاہ نبی نے حضرت خاتم الانبیاء کے زمانہ کی نسبت فرمایا تھا کہ صحرا میں ندیاں بناؤں گا۔ ظاہر ہے کہ سیّد ومولےٰ کے وقت زبیدہ والی ندی مکہ میں اور نہر بنی زرقا مدینہ میں جاری نہیں ہوئی تھی۔ جس پر بعض نے ناعاقبت اندیشی سے ٹھوکر کھائی۔ عزیز من! ترہیب اور ترغیب میں دلوں کے بڑھانے۔ ہمت وتوجہ کیؔ ترقی دینے کو ایسے الہامات بھی ہوتے ہیں جن کا بیان آیت ذیل میں ہے3۳؂ (حالانکہ بدر کی جنگ میں مکہ کے کفار مسلمانوں سے بہت زیادہ تھے ) مگرا یسا الہام کیوں ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ فرماتا ہے 3 3۴؂۔ سوچو اور غور کرو!