الہامات صادؔ قہ مشاہدات وحقائق نفس الامریہ قواعد شرعیہ ان نصوص کو لامحالہ ظاہر سے اور معنے کی طرف لے جائیں گے۔ چنانچہ سیدنا یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سورج اور چاند اور سیّاروں کو اپنے لئے سجدہ کرتے دیکھا۔ مگر جسمانی عالم میں وہ سورج وچاند وسیارے اُن کے ماں باپ اور بھائی تھے۔ قرآن کریم میں ایک بادشاہ کا قصہ لکھا ہے جس نے فربہ گائیں اور سبز بالیاں دیکھیں۔ جسمانی عالم میں وہ قحط اور ارزانی تھی۔ ہمارے سیّد ومولیٰ نے رویاء صالحہ میں دیکھا کہ آپ کے کف دست مبار ک میں سونے کے کنگن ہیں اور آپ نے اُن کو پھونک سے اُڑادیا۔ وہ جسمانی عالم میں مسیلمہ اور اسود عنسی اور ان کی تباہی تھی۔ حضور علیہ السلام نے اپنی بیبیوں سے فرمایا اسرعُکن لحوقًا بی اطولکن یدًا۔ لگی بیبیاں ہاتھوں کو ناپنے۔ مگر واقعات نفس الامریہ نے بتا دیا اور مشاہدات نے دکھا دیا کہ صحابیات کا فہم پیشین گوئی کے سمجھنے میں اس پہلو پر غلط تھا جس پر انہوں نے سمجھاتھا۔ پس دجّال اور مسیح علیہ السلام کی پیشین گوئی میں کیوں ایمانی حد سے بڑھ کر لوگ عرفان کے مدعی ہوگئے ہیں اور عارف کے خلاف پر اُٹھؔ کھڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں بڑا تعجب آتا ہے جب یہ کہتے سنتے ہیں کہ مرزا اجماع کے خلاف کرتا ہے۔ حالانکہ وہی لوگ جن کو مرزا جی سے بہت بڑا نقار ہے امام احمد بن حنبل کے اس قول کو ہمیشہ سناتے رہے کہ اجماع کا دعویٰ کذب ہے۔ اور عقل ودنیا کا نظارہ اورعلماء کی حالت بھی کہ وہ شرق وغرب وجبال وبحار میں پھیلے ہوئے ہیں گواہی دیتی ہے کہ اجماع کا دعویٰ ایک خیال سے بڑھ کر وقعت نہیں رکھتا۔ عزیز من! جیسے مرزا جی نے اپنے آپ کو ابن مریم کہا ہے ایک جگہ مریم بھی فرمایاہے اور اپنے بیٹے مثیل مسیح کا نام عموانوئیل بتایا ہے۔ خود خاکسار نے جب مرزا جی کے حضور میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ایک پیغام پہنچا یا تو آپ نے