کہ’’ در تفسیر قرآن عظیم خلاف راہ صحابہ رضی اللہ عنہم اختیار نمودن الحاد وضلالت است ورضامندی رب العالمین در اتباع ایشان است‘‘ اور اسی خط میں ’’وقولہٗ تعالیٰ۔ 33 (ای الملۃ المحمدیۃ)33 ۱ میں الملّۃ الآخرۃ کی تفسیر خلاف صحابہ وتابعین وجمیع مفسرین الملّۃ المحمدیۃ سے فرماتے ہیں! احادیث میں مسیح علیہ السلام کا حلیہ کہیں احمر رجل الشعر اور کہیں اسمر سبط الشعر آیاہے۔ اس کی تطبیق میں تاویل کی جاتی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اور امور میں بھی الٰہی کلام میں تمثیلات و استعارات و کنایات کا ہونا اسلامیوں میں مسلّم ہے مگر ہر جگہ تاویلات و تمثیلات سے استعارات وکنایات سے اگر کام لیاجاوے تو ہر یک مُلحد منافق بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیّبات کو لاسکتا ہے اس لئے ظاہر معانی کے علاوہؔ اَور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کاہونا ضرور ہے۔
الٰہی کلمات طیبات میں استعارات بکثرت ہوتے ہیں مگر اس امر کے باعث کیا ہم ہر جگہ استعارہ ومجاز لینے پر دلیر ہوسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ کیا عبادات میں معاملات میں تمدّن ومعاشرت کے مسائل میں اخلاق وسیاست کے احکام میں بھی ہم استعارات سے کام لیں گے؟ ہرگز نہیں !ان باتو ں کو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے عملی طور پر کر کے ہمیں دکھا دیا۔ اُمّت کے تعامل ورواج نے وہ تصویر ہم تک پہنچا دی۔ جزاہم اللّٰہ احسن الجزاء۔
مگر جو کچھ پیشین گوئیوں میں مذکور ہے اور جو کچھ انبیاء علیہم السلام کے مکاشفات اور رویا صالحہ میں نظر آتا ہے کچھ شک نہیں کہ وہ عالم مثال میں ہو اکرتا ہے۔ ایسا ہی اُن کے بعض اخبار ماضیہ اور حقائق کونیہ او رعالم مثال کے اشکال والوان عالم جسمانی کے الوان واشکال سے بالکل نرالے ہواکرتے ہیں۔ پس ایسے موقعہ پر علوم ضروریہ یقینیہ