مرزا جی نے اپنے رسائل میں بیان فرمائی ہے۔ اس ترجمہ اور حقیقت پر اگر کسی کو طالب علمانہ بحث ہو تو اُسے یاد رہے کہ واؤ کا حرف تفسیرکے واسطے بھی ہواکرتاہے۔ دیکھوکلمات طیبات قرآنی جو ذیل میں درج ہیں۔ 33 ۱؂ ۔سورۃ حجر ۔33سورہ رعد ۲؂ عزیز من! بیرونی تحریکات کے سوا اندرونی تحریکوں کا ہونا ایک نادر امر ہے یہ معاملہ جس پر یہ ضعیف اور خاکسار خط لکھ رہا ہے اب پبلک میں آگیاہے شخصی خطوط میں اس کا تذکرہ اب چنداں ضرور ی نہیں۔ جناب مولوی محمدؔ حسین صاحب بٹالوی نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ اب مرزا جی کے معاملہ میں مجھ سے خط وکتابت نہ فرماویں گے مگر جب خلاف وعدہ مولوی جی نے خاکسار کو لکھا تو خاکسار نے اُن کو یہی جواب دیا کہ اب یہ معاملہ شخصی اور پرائیویٹ خطوط کے قابل نہیں رہا۔ سو تم بھی عام فیصلہ کا انتظار کرو۔ تم کو معلوم ہے کہ اس وقت تین آدمیوں کو پنجاب میں مرزا جی کی مخالفت پر بڑ اجوش ہے۔ اِدھرقرآن مجید راستبازوں کی فتحمندی پر تاکید سے خبر دے رہا ہے۔ 33۳؂ پس صبر ومتانت وسلامت روی سے چند روز کام لو۔ عزیز من ! یاد رکھو مجھ ہیچ میرز کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا قصہ بدوں کسی قسم کی تاویل اور کسی قسم کے استعارہ ومجاز کے کسی قوم نے تسلیم نہیں فرمایا۔ یہ میری بات سرسری نہ سمجھو۔ نمونہ کے طور پر دیکھ لو۔ ہمارے اکثر مفسّرین حضرت مسیح کے قصہ میں 33 ۴؂ میں کیا کچھ اُلٹ پھیر نہیں کرتے۔ میاں عبد الحق صاحب غزنوی اپنے دوسرے اشتہار میں پہلے ہی صفحہ کے آخری سطر میں لکھتے ہیں۔ اللّٰہ اکبر ’’خربت خیبر‘‘ اب غور کا مقام ہے کہ میاں عبد الحق کا خیبر حقیقی خیبرتوؔ ہرگز نہیں ہوسکتا اب قادیان کو دمشق ماننے میں وہ کیوں گھبراتے اوراس پر شوروغل مچاتے ہیں !!! مولوی عبد الرحمٰن لکھو کے والے عزیز القدر عبد الواحد حفظہ اللہ کو ارقا م فرماتے ہیں