کہ الٰہی انت ربی وانا عبدک ۔ مجھے اس وقت ایک قصہ یاد آگیا جس کو قلا ئد الجواھر میں محمد بن یحییٰ تادفی نے ارقام فرمایا ہے اس پر غور کرو۔ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں جاء نی ابو العباس الخضر علیہ السلام۔ یمتحننی بما امتحنؔ بہ الاولیاء من قبلی فکشف لی عن سریرتہ ففتح علٰی بما خاطبتہ بہ ثم قلت لہ و ھو مطرق ان یا خضر۔ ان کنت قلت لموسٰی انک لن تستطیع معی صبرًا۔ فانک لن تستطیع معی صبرًا یا خضر! ان کنت اسرائیلیا فانک اسرائیلی و انا محمدی۔ فھا انا و انت و ھذہ الکرۃ و ھذا المیدان ھذا محمد و ھذا الرحمٰن ۔ و ھذا فرسی مسرج ملجم وقوسی موتر و سیفی شاھر رضی اللّٰہ عنہ۔ سبحان اللہ کیا خوب ڈوئل ہے سنو! حضرت مسیح علیہ الصلٰوۃو السلام کی دوبارہ تشریف آوری کاذکر قرآن مجید میں تو بالکل نہیں اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کا بجسدہ العنصری زندہ رہ کر آسمان کی طرف عروج کرنا قرآن شریف سے ثابت نہیں۔ پھر اگر یہ پوچھو کہ یہ مسئلہ کہاں ہے شاید جواب یہ ہو کہ احادیث میں۔ مگر وہاں تو نہیں۔ پھر کیا اناجیل میں۔ مگر وہاں نہیں۔ پھرکہاں۔تو جوا ب یہی ہوگا۔ کہ عیسائیوں کے بھولے بھالے خیالات میں۔ کیونکہ متی اور یوحنا تو ساکت ہیں اور لوک اور مرک تابعی نہ صحابی بے دیکھے اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ پھر کیا اسلامیوں کی اسرائیلی مرویات وحکایات وغیرہؔ میں جن کی تائید قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے نہیں ہو سکتی؟ کیونکہ قرآن کریم تو اسرائیلی مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی وفات کو مختلف جگہوں میں ذکر فرماچکاہے اور احادیث صحیحہ میں نزول مسیح عیسیٰ ابن مریم میں اسرائیلی نبی کا ذکر نہیں۔اگرہو بھی تو تثلیث ۱؂میں مسیح عیسیٰ ابن مریم نبی اللہ اسرائیلی کا جو شخص مثیل ہوگااِس پر مجازًا مسیح ابن مریم اسرائیلی کہنابھی جائز ہوگا۔ ہاں ینزل ابن مریم فیکم و امامکم منکم بخاری کی حدیث ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ او راس کی حقیقت