کا حکم رکھتی ہیں ایک مستحکم رشتہ اور ایک شدید مواصلت خالق اور مخلوق میں پیدا ہو کر الٰہی محبت کی چمکنے والی آگ سے جو مخلوق کی ہیزم مثال محبت کو پکڑ لیتی ہے۔ ایک تیسری چیز پیدا ہو جاتی ہے جس کا نام روح القُدس ہے سو اس درجہ کے انسان کی روحانی پیدائش اس وقت سے سمجھی جاتی ہے جب کہ خدائے تعالٰے اپنے ارادہ خاص سے اس میں اس طور کی محبت پیدا کردیتا ہے اور اس مقام اور اس مرتبہ کی محبت میں بطور استعارہ یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو باارادہ
الٰہی اب محبت سے بھر گئی ہے ایک نیا تولد بخشتی ہے۔ اسی وجہ سے اس محبت کی بھری ہوئی روح کو خدائے تعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبت ہے استعارہ کے طور پر ابنیت کا علاقہ ہوتا ہے اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اس لئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو ناپاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرّہ امکان کو جو ھالکة الذات، باطلة الحقیقت ہے حضرت اعلیٰ واجب الوجود کے ساتھ برابر ٹھہرا دیا ہے۔
لیکن اگر اس جگہ یہ استفسار ہو کہ اگر یہ درجہ اس عاجز اور مسیح کے لئے مسلّم ہے تو پھر سیّدنا و مولانا سیّد الکل و افضل الرسل حضرت خاتم النبیّن محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کون سا درجہ باقی ہے۔ سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام اور برتر مرتبہ ہے جو اُسی ذات کامل الصفات پر ختم ہوگیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کا کام نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اور کو حاصل ہو سکے۔
شان احمد را کہ داند جُز خداوندِ کریم
آنچناں از خود جدا شد کز میاںافتادمیم
زاںنمط شد محودلبر کز کمال اتحاد
پیکر او شد سراسر صورتِ ربِّ رحیم
بوئے محبوبِ حقیقی میدہد زاں روئے پاک
ذات حقّانی صفاتش مظہرِ ذات قدیم
گرچہ منسوبم کند کس سوئے الحادو ضلال
چوں دلِ احمد نمے بینم دگر عرشِ عظیم