عزیز من ! ایمانی امور میں کسی قدر اخفا کاہونا ایک ضروری اور لازمی امر ہے۔ اگرؔ کوئی معاملہ بالکل عیاں ہوجاوے تو پھر اخفا کہاں۔ عیاں وخفا میں مقابلہ ہے۔ اِسی واسطے شرعیہ احکام وامور میں جسمانی شمس وقمر کا ماننا ایمانی امور میں داخل نہیں۔ اور اسی واسطے قیامت کے روز شرعیہ تکالیف علی العموم اُٹھ جائیں گی۔ پس تم پیشگوئیوں میں ایمان سے کام لو۔ ان کے فہم میں عرفان کے مدعی نہ بنو۔ ہمارے سیّد ومولیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا وہ ایک واقعہ قابل غور ہے جو قرآن کریم کے پندرہ سیپارہ کے آخر اور سولہ سیپارہ کے ابتداء میں مندرج ہے۔ اس واقعہ کے بیان میں ایک طرف سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں جن کا اولو العزم صاحب شریعت رسول ہونا یہود عیسائیوں اور محمدیوں میں مسلّم ہے۔ اس مقدس نبی نے جیسے امام المحدثین امام بخاری رحمۃ اللہ وغیرہ نے ارقام فرمایا ہے کہیں انا اعلم کہہ دیا تب الٰہیہ غیرت نے اپنے پیارے بندے سیدنا خضر علیہ السلام کاانہیں پتہ دیا۔ جب جناب موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام اس عارف سے ملے تو اس کے سچے علوم واسرار کی تہ تک نہ پہنچے۔ جناب خضر علیہ السلام نے انہیں فرمادیا تھا 3 اورفرما دیا تھا 33 ۱۔ پس منجملہ آداب الٰہیہ کے یہ ادب ضروری تھا کہ ایسے بندوں کے معاملات میں کم سے کم خاموشی اختیارکی جاتی۔ اس وقت تک کہ لوگ مرزا جی کے معاملہ میں صریح کفر کو دیکھ لیتے۔ سیدنا موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بے صبری کو خبردار حجت نہ پکڑنا !اور ہرگز حجت نہ پکڑنا۔ کیونکہ سیّد ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ لیت موسٰی سکت حتی یقص اللّٰہ علینا۔
میری اس بات پر کسی بدظنّی سے کام نہ لینا۔ میں محمدی ہوں اور محمدیوں کو بحمد اللہ کچھ ایسے انعامات عطا ہوئے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی سرور میں آکر اللہ کی پاک جناب میں انت عبدی وانا ربک کہہ دے تو انشاء اللہ تعالیٰ جہنمی نہ ہو اگر چہ سچ یہی ہے