حبّیؔ فی اللہ اخویم مولوی حکیم نور الدّین صاحب کاخط ایک سائل کے جواب میں عزیزمن حفظک اللّٰہ وسلّم۔ ثم السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہٗ۔ مرزاجی کے دعاوی پر آپ نے مجھے ایک بہت بڑ ا لمبا خط لکھا ہے۔ بجواب اس کے گذارش ہے کہ فلا تستعجلون (جلد باز نہ بنو) ایک الٰہی ارشاد ہے جو حضرت خاتم الانبیاء اصفی الاصفیاء سیّد نا مولانا احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ (فداہٗ امی وابی) صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کے نام جاری ہوا تھا۔ ہم اسی ارشاد کو ظلّی طور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل اور نائب اور اس کے دین کے خادم حضرت مجدد الوقت مرزا جی کے مخالفوں کوسُناتے ہیں۔ مخالفت والو ! صبر سے انتظار کروجلدباز نہ بنو۔ مرزا جی نے اپنے بعض احباب کو اس خاکسار کے سامنے فرمایا ہے کہ اگر لوگ تم سے بمباحثہ پیش آویں تو یہ الٰہی حکم اُن کو سُنا دو۔33 33 ۱؂۔ عزیز من سنو اور اس پر غور کرو۔ دنیا میں ایک جماعت گذری او ر اب بھی ہے جنہوں نے اَنَااللّٰہ کہا۔ اورکہتے ہیں۔ ایسے قائلین کی تکفیر وتفسیق سے بھی محتاط کف لسان پسند کرتے ہیں اوراس جماعت کو صلحاء واولیاء کی جماعت کہتے ہیں۔ پس عزیز من ! انا المسیح انا عیسٰی ابن مریم کہنے والے پر یہ شور وغل کیوں؟ انصاف! انصاف! ! انصاف!!! میرے پیارے ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے الدر الثمین میں فرمایا ہے بلغنی عن سیدی العم انہ قال رایت النّبی صلی اللہ علیہ وسلم فی النوم فلم یزل یدنینی منہ حتی صرت نفسہ۔ ایساہی ابن حزم ظاہری کی نسبت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ نے ارقام فرمایا ہے یہ نظارہ انا محمد کہنے کا ہے۔ آہ پھر انا المسیح وانا ابن مریم الموعود پر یہ طیش وغضب کیوں!!!