یعنی مسیح کی روح کا قبض کرنا بطور موت کے تھا نہ بطور خواب کے۔ اور صحیح بخاری میں جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے تفسیر کے محل میں انّی متوفّیک کے معنے انّی ممیتک لکھے ہیں۔ پس جبکہ قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے صرف حضرت مسیح کی روح کا اٹھایا جانا ثابت ہوتا ہے تو حال کے اکثر علماء کی حالت پر رونا آتا ہے کہ وہ کیوں اللہ اور رسول کے فرمودہ سے تجاوز کر کے اپنی طرف سے بلا دلیل مسیح کے جسم کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا تجویز کرتے ہیں۔ کیا قرآن اور حدیث کا بالاتفاق مسیح ابن مریم کی موت پر گواہی دینا تسلی بخش نہیں ہے۔ افسوس کہ یہ لوگ ذرہ خیال نہیں کرتے کہ وہ حدیثیں جو نزول مسیح کے بارہ میں آئی ہیں اگر اُن کے یہی معنے کئے جائیں کہ مسیح ابن مریم زندہ ہے اور درحقیقت وہی آسمان سے اتر آئے گا۔ تو اس صورت میں ان حدیثوں کا قرآن کریم اور ان دوسری حدیثوں سے تعارض واقع ہو گا جن کی رو سے مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا یقینی طور پر ثابت ہو چکا ہے۔ آخر کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے وہ حدیثیں ردّ کے لائق ٹھہریں گی۔ پھر کیوں نزول کے ایسے معنے نہیں کرتے جو کتاب اللہ کے مخالف و مغائر نہ ہوں اور نہ دوسری صحیح حدیثوں سے مغائرت رکھیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے آیت فلمّا توفّیتنی میں صاف صاف اپنا اظہار دے دیا ہے کہ میں ہمیشہ کے لئے دنیا سے اٹھایا گیا۔کیونکہ ان کا یہ کہنا کہ جب مجھے وفات دی گئی تو پھر اے میرے رب میرے بعد تُو میری اُمت کا نگہبان تھا۔ صاف شہادت دے رہا ہے کہ وہ دنیا سے ہمیشہ کے لئے وفات پا گئے۔ کیونکہ اگر ان کا دنیا میں پھر آنا مقدر ہوتا تو وہ ضرور اِن دونوں واقعات کا ذکر کرتے اور نزول کے بعد کی تبلیغ کا بھی بیان فرماتے نہ یہ کہ صرف اپنی وفات کا ذکر کر کے پھر بعد اپنے خداتعالےٰ کو قیامت تک نگہبان ٹھہراتے۔ فتدبر۔