اس جگہ اخویم مولوی مردان علی صاحب صدر محاسب دفتر سرکار نظام حیدر آباد دکن بھی ذکرکے لائق ہیں۔مولوی صاحب موصوف نے درخواست کی ہے کہ میرانام سلسلہ بیعت کنندوں میں داخل کیاجاوے۔ چنانچہ داخل کیاگیا۔اُن کی تحریرات سے نہایت محبت واخلاص پایاجاتاہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے سچے دل سے پانچ برس اپنی عمر میں سے آپ کے نام لگا دئے ہیں۔ خدا تعالیٰ میری عمر میں سے کا ٹ کر آپ کی عمر میں شامل کردے سو خدا تعالیٰ اس ایثارکی جزا ان کو یہ بخشے کہ اُن کی عمر دراز کرے۔ انہوں نے اوراخویم مولوی ظہور علی صاحب اور مولوی غضنفر علی صاحب نے نہایت اخلاص سے دس دس روپیہ ماہواری چندہ دینا قبول کیا ہے اور بہتّر۷۲ روپیہ امداد کے لئے بھیجے ہیں۔ جزاہم اللّٰہ خیر الجزا۔ والصلٰوۃ والسلام علیٰ نبیّنا ومولانا محمد واٰلہ واصحابہ وجمیع عباد اللّٰہ الصالحین۔
راقم
خاکسار غلام احمد از لودہیانہ محلہ اقبال گنج
یہ ثابت کر چکے ہیں کہ توفی کا لفظ عمومًا محاورہ کی رُو سے یہی معنے رکھتا ہے کہ روح کا قبض کرنا لیکن جسم کا قبض کرنا قرآن کریم کے کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا۔ پس جب کہ توفی کا لفظ صرف روح کی قبض کرنے میں محدود ہوا تو مسیح ابن مریم کا جسم آسمان کی طرف اُٹھایا جانا قرآن کریم کے کسی لفظ سے ثابت نہ ہو سکا۔ ظاہر ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالےٰ قبض کرتا ہے اٹھاتابھی اُسی کو ہے اور یہ وعدہ بھی قرآن کریم میں ہو چکا ہے کہ لاشیں قبروں میں سے بروز حشراٹھیں گی۔ اس صورت میں اگر فرض محال کے طور پر مسیح ابن مریم قبر میں سے اٹھے تو پھر نزول غلط ٹھہرے گا۔
بعض کہتے ہیں کیا یہ ممکن نہیں کہ مسیح سونے کی حالت میں اٹھایا گیا ہو اور پھر آخری زمانہ میں آسمان پر جاگ اٹھے اور زمین پر نازل ہو مگر یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ جسم کا اٹھایا جانا قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ توفی صرف روح کے قبض کرنے کو کہتے ہیں خواہ بحالت نوم قبض ہو یا بحالت موت پس جو چیز قبض کی جائے وہی اٹھائی جائے گی۔ اور یہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ مسیح کی توفِّیْ