خیال کر سکتاہے کہ وہی بچھو دوبارہ زندہ ہو کر آگئے جو مر گئے تھے بلکہ مذہب صحیح جو قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے یہی ہے کہ مخلوقات ارضی میں سے بجُز جنّ اور انس کے اور کسی چیز کو ابدی روح نہیں دیاگیا۔ پھر اگر خلق اللہ کے طور پر کسی مادہ سے خدا تعالیٰ کوئی پرندہ پیداکر دے تو کیا بعید ہے مگر ایسی روح کااعادہ جو حقیقی موت کے طور پر قالب سے نکل گیا تھا وعدہ الٰہیہ کے برخلاف ہے تمام مقامات قرآن کریم میں جو احیاء موتی کے متعلق ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ فلاں قوم یا شخص کو مارنے کے بعد زندہ کیاگیا ان میں صرف اماتت کا لفظ ہے توفّیکا لفظ نہیں۔ اس میں یہی بھیدہے کہ توفی کے حقیقی معنے وفات دینے اوررو ح قبض کرنے کے ہیں۔ لیکن اماتتکے حقیقی معنے صرف مارنا اورموت دینا نہیں بلکہ سُلانااوربیہوش کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ ہاں یہ بھی بالکل ممکن اور جائز ہے کہ خداتعالےٰ
پھر دسویں آیت یہ ہے
33 ۲ ۔ایسا ہی وہ تمام آیتیں جن کے بعد خالدون یا خالدین آتا ہے اسی امر کو ظاہر کر رہی ہیں کہ کوئی انسان راحت یا رنج عالم معاد کے چکھ کر پھر دنیا میں ہرگز نہیں آتا۔ اگرچہ ہم نے ابتداء میں ایسی آیتیں سولہ قرآن کریم میں سے نکالی تھیں مگر دراصل ایسی آیتوں سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ نہ صرف قرآن کریم بلکہ بہت سی حدیثیں بھی یہی شہادت دے رہی ہیں۔ چنانچہ ہم بطور نمونہ مشکوٰۃ شریف سے حدیث جابر بن عبداللہ کی اس جگہ نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ و عن جابر قال لقینی رسول اللہ صلعم فقال یا جابر مالی اراک منکسرًا قلت استشھد ابی و ترک عیالًا و دَینا قال افلا ابشرک لما لقی اللہ بہٖ اباک قلت بلٰی یا رسول اللّٰہ قال ما کلم اللّٰہ احدًا قطّ الا من وراء حجاب و احیی اباک فکلمہ کفاحًا قال یا عبدی تمن علیّ اعطک قال تحیینی فاقتل فیک ثانیۃ قال الرب تبارک و تعالٰی