کسی حیوان یا انسان یا پرندہ کو ایسی حالت میں بھی کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیاجائے حقیقی موت سے بچاوے اور اس کی روح کا اس کے پاش پاش شدہ جسم سے وہی تعلق قائم رکھے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے اورپھر اس کے جسم کو درست کردیوے اور اس کو نیند کی حالت سے جگا دیوے۔ کیونکہ وہ ہریک بات پر قادر ہے۔ اپنی صفات قدیمہ اور اپنے عہد اوروعدہ کے برخلاف کوئی بات نہیں کرتا اور سب کچھ کرتا ہے۔ فتدبر فی ھٰذا المقام و لا تکن من الغافلین۔ منہ انہ قد سبق منّی انھم لا یرجعون رواہ الترمذی یعنی جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم مجھ کو ملے اور فرمایا کہ اے جابر کیا سبب ہے کہ میں تجھ کو غمناک دیکھتا ہوں۔میں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلعم میرؔ ا باپ شہید ہو گیا اور میرے سر پر عیال اور قرض کا بوجھ چھوڑ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا میں تجھے اس بات کی خوشخبری دوں جس طور سے اللہ جلّشانہ‘ تیرے باپ کو ملا۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ جلشانہ‘ کسی کے ساتھ بغیر حجاب کے کلام نہیں کرتا مگر تیرے باپ کو اُس نے زندہ کیا اور بالمواجہ کلام کی اور کوئی درمیان حجاب نہ تھا۔ اور پھر اس نے تیرے باپ کو کہا کہ اے میرے بندے کچھ مجھ سے مانگ کہ مَیں تجھے دوں گا۔ تب تیرے باپ نے عرض کی کہ اے میرے رب مجھ کو زندہ کر کے پھر دنیا میں بھیج تا تیری راہ میں دوبارہ شہید کیا جاؤں۔ تب اللہ تبارک و تعالےٰ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ میں (قرآن کریم میں) عہد کر چکا ہوں کہ جو لوگ فوت ہو جائیں پھر و ہ دنیا میں بھیجے نہیں جائیں گے (33 ۱؂ قرآن کریم کی آیت ہے)یہ وہ حدیث ہے جو ترمذی میں لکھی ہے اور اسی کے ہم مضمون ایک صحیح بخاری میں حدیث ہے مگر خوف طول سے چھوڑ دی گئی۔ اب ان تمام آیات اور احادیث سے ظاہر ہے کہ جس پر حقیقی موت وارد ہو جائے وہ ہرگز دوبارہ دنیا میں بھیجا نہیں جاتا۔ اگرچہ خدائے تعالےٰ ہر یک چیز پر قادر ہے مگر ایسا ہونا خدائے تعالےٰ کے وعدہ کے برخلاف ہے۔اسی جگہ سے ثابت ہوتاہے کہ وہ تمام مقامات قرآن کریم جن میں مُردوں کے زندہ کرنے کا ذکر ہے ان سے حقیقی موت مراد نہیں ہے۔ یہ بات بالکل ممکن اور صحیح ہے کہ ایک حالت انسان پر بالکل موت کی طرح وارد ہو جائے مگر وہ حقیقی موت نہ ہو اور اگر ذرہ غور کر کے دیکھیں تو صاف ظاہر ہو گا کہ مسیح ابن مریم کی نسبت یہ عذر