پھر ہرگز دنیا میں نہیں آتااورایسا ہی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے لیکن یہ ہرگز سچ نہیں ہے کہ ان تمام مقامات میں جہاں مردہ زندہ ہونا لکھا ہے واقعی اور حقیقی موت کے بعد زندہ ہونا لکھاگیا ہے بلکہ لغت کی رو سے موت کے معنے نیند اور ہر قسم کی بے ہوشی بھی ہے۔ پس کیوں آیات کو خواہ نخواہ کسی تعارض میں ڈالاجائے اوراگرفرض کے طور پر چارجانور مرنے کے بعد زندؔ ہ ہوگئے ہوں تو و ہ اعادہ روح میں داخل نہیں ہوگا کیونکہ بجُز انسان کے اور کسی حیوان اور کیڑے مکوڑے کی روح کو بقاء نہیں ہے۔ اگر زندہ ہوجائے تو وہ ایک نئی مخلوق ہوگی۔ چنانچہ بعض رسائل عجائب المخلوقات میں لکھا ہے کہ اگر بہت سے بچّھو کوٹ کر ایک ترکیب خاص سے کسی برتن میں بند کئے جائیں تو اِس خمیرسے جس قدر جانور پیدا ہوں گے وہ سب بچّھو ہی ہوں گے۔ تو اب کیا کوئی دانا پھر آگے فرمایا کہ جو لوگ مر چکے ہیں ان میں اور دنیا میں ایک پردہ ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت تک دنیا کی طرف رجوع نہیں کر سکتے۔ پھر تیسری آیت جو اسی امر کو بوضاحت بیان کر رہی ہے یہ ہے 33 ۱؂۔یعنی جس پر موت وارد ہو گئی خداتعالےٰ دنیا میں آنے سے اسے روک دیتا ہے۔ پھر چوتھی آیت اسی مضمون کی یہ ہے 33333۲؂۔یعنی دوزخی لوگ درخواست کریں گے جو ایک دفعہ ہم دنیا میں جائیں۔ تا ہم اپنے باطل معبودوں سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے وہ ہم سے بیزار ہیں لیکن وہ دوزخ سے نہیں نکلیں گے۔ پھر پانچویں آیت اس مضمون کی یہ ہے 3۳؂ ۔پھر چھٹی آیت یہ ہے 3 ۴؂ پھر ساتویں آیت یہ ہے 33 ۵؂۔ پھر آٹھویں آیت یہ ہے 3 3۶؂۔ پھر نویں آیت