چشمۂ فیض سے حاصل ہوا ہے جس سے وحی نبوت ہے تو یہؔ اس کو حق پہنچتاہے کیونکہ ظن کو یقین کے تابع کرنا عین معرفت اور سراسر سیرتِ ایمان ہے۔ اوراگر یہ کہاجائے کہ بعض جگہ قرآن میں بھی تعارض پایاجاتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کی سولہ آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص فوت ہوجائے پھر دنیا میں کبھی نہیں آسکتا اوردوموتیں کبھی کسی پر وارد نہیں ہو سکتیں۔ لیکن بعض جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کی فلاں قوم کو ہم نے مارا اور پھر زندہ کیا۔ اور ایک نبی عزیز یاکسی اَور کو سو برس تک مارا اورپھر زندہ کیا۔ اور ابراہیم کی معرفت چار جانور زندہ کئے گئے وغیرہ وغیرہ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہرگز تعارض نہیں پایاجاتا۔ بلکہ یہ شبہ صرف قلّت فہم اور جہالت سے پیداہوتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ قرآن کریم کی سولہ آیتوں سے کھلے کھلے طورپر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جو شخص فوت ہو*جائے وہ آیاؔ ت جن میں لکھا ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر دنیا میں نہیں آتے ازانجملہ یہ آیت ہے 33 ۱؂ الجزو نمبر ۱۷ سورۃ الانبیاء ۔حضرت ابن عباسؓ سے حدیث صحیح میں ہے کہ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ جن لوگوں پر واقعی طور پر موت وارد ہو جاتی ہے اور درحقیقت فوت ہو جاتے ہیں پھر وہ زندہ کر کے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے۔ یہی روایت تفسیر معالم میں بھی زیر تفسیر آیت موصوفہ بالا حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے۔پھر دوسری آیت جو صریح منطوق قرآن کریم ظاہر کر رہا ہے یہ ہے 33333 3۲؂۔ الجزو نمبر ۱۸ سورۃ المؤمنون ۔ یعنی جب کافروں میں سے ایک کو موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھ کو پھر دنیا میں بھیج تاہو کہ میں نیک عمل کروں اور تدارک مافات مجھ سے ہو سکے۔ تو اس کو کہا جاتا ہے کہ یہ ہرگز نہیں ہو گا۔ یہ صرف اس کا قول ہے۔ یعنی خداتعالےٰ کی طرف سے ابتداء سے کوئی بھی وعدہ نہیں کہ مردہ کو پھر دنیا میں بھیجے اور