قلوب قومٍ مُوجع۔ فانظر ایھاالناقد البصیرأیُفھَمُ من ھٰذا سد باب النبوة علی وجہ کلی بل الحدیث یدل علی ان النبوة التامة الحاملة لوحی الشریعة قد انقطعت ولٰٰکن النبوة التی لیس فیھا الا المبشرات فھی باقیة الی یوم القیامة لا انقطاع لھا ابدًا۔ و قد علمتَ و قراتَ فی کتب الحدیث ان الرؤیا الصالحة جزءمن ستة واربعین جزءمن النبوّة ای من النبوة التامة فلما کان للرویا نصیبا من ھٰذہِ المرتبة فکیف الکلام الذی یوحٰی من اللّٰہ تعالٰی الی قلوب المحدثین فاعلم ایدک اللّٰہ ان حاصل کلامنا ان ابواب النبوة الجزئیة مفتوحة ابدًا و لیس فی ھٰذا النوع الا المبشرات او المنذرات من الامور المغیبة او اللطائف القرآنیة والعلوم اللدنیة۔ و اما النبوة التی تامة کاملة جامعة لجمیع کمالات الوحی فقد آمنّا بانقطاعھا من یوم نزل فیہ۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؂۱ اگریہ استفسار ہو کہ جس خاصیت اور قوت روحانی میں یہ عاجز اور مسیح بن مریم مشابہت رکھتے ہیں وہ کیا شے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ایک مجموعی خاصیت ہے جو ہم دونوں کے روحانی قویٰ میں ایک خاص طور پر رکھی گئی ہے جس کے سلسلہ کی ایک طرف نیچے کو اور ایک طرف اوپر کو جاتی ہے۔ نیچے کی طرف سے مراد وہ اعلیٰ درجہ کی دل سوزی اور غم خواری خلق اللہ ہے جو داعی الی اللہ اور اس کے مستعد شاگردوں میں ایک نہایت مضبوط تعلق اور جوڑ بخش کر نورانی قوّت کو جو داعی الی اللہ کے نفس پاک میں موجود ہے ان تمام سرسبز شاخوں میں پھیلاتی ہے۔ اوپر کی طرف سے مراد وہ اعلی درجہ کی محبت قوی ایمان سے ملی ہوئی ہے جو اوّل بندہ کے دل میں بارادہ الٰہی پیدا ہو کرربِّ قَدِیر کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور پھر اُن دونوں محبتوں کے ملنے سے جو درحقیقت نر اور مادہ ؂۱ الاحزاب:۴۱