منظور کرائیں۔ مگر منسوخ شدہ آیتوں کے بعد پھر کوئی نئی آیت نازل نہ ہوئی۔اب کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے احکام اس قدرکچے اور بے ثبات اور تعارض سے بھرے ہوئے ہیں کہ اول پچاس نمازیں مقرر ہوکر پھر پختہ طور پر ہمیشہ کے لئے پانچ نمازیں مقررکی جائیں۔ پھرتخلف وعدہ کر کے پانچ کی پچاس بنائی جائیں۔ پھرکچھ رحم فرما کر ہمیشہ کے لئے پانچ کر دی جائیں۔ پھر بار بار وعدہ توڑ دیاجائے اور باربارقرآن کریم کی آیتیں منسوخ کی جائیں اور حسب منشاء آیت کریمہ 33 ۱ اورکوئی آیت ناسخہ نازل نہ ہو۔ درحقیقت ایسا خیال کرنا وحی الٰہی کے ساتھ ایک بازی ہے جن لوگوں نے ایساخیال کیا تھا ان کا یہ مدعاتھا کہ کسی طرح تعارض دورہو۔ لیکن ایسی تاویلوں سے ہرگز تعارض دُور نہیں ہو سکتا بلکہ اَور بھی اعتراضات کا ذخیرہ بڑھتاہے۔ اورؔ کتاب التوحید کی حدیث جو بخاری کے صفحہ ۱۱۲۰ میں ہے جس میں قبل ان یوحٰی الیہ لکھا ہے یہ خود اپنے اندر تعارض رکھتی ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو یہ لکھدیا کہ بعثت کے پہلے یہ معراج ہوا تھا اور پھر اُسی حدیث میں یہ بھی لکھا ہے کہ نمازیں پانچ مقرر کر کے پھر آخر کار ہمیشہ کیلئے پانچ مقرّر ہوئیں۔ اب ظاہر ہے کہ جس حالت میں یہ معراج نبوت سے پہلے تھا تو اس کو نمازوں کی فرضیت سے کیا تعلق تھا اور قبل از وحی جبرائیل کیوں کر نازل ہوگیا اور جو احکام رسالت سے متعلق تھے وہ قبل از رسالت کیوں کر صادر کئے گئے۔ غرض ان احادیث میں بہت سے تعارض ہیں۔ اگرچہ یہ نہیں کہاجاتا کہ یہ حدیثیں موضوع ہیں بلکہ قدر مشترک ان کا بشرطیکہ قرآن سے معارض نہ ہو قابل تسلیم اور واجب العمل ہے۔ ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ نصوص بیّنہ قطعیہ قرآن کریم کو اُن پر مقدّم رکھا جائے۔ اور اگر ایک محدّث جس کو خدا تعالیٰ سے بذریعہ متواترتعلیمات ایک علم قطعی یقینی ملا ہے۔ قرآن سے اپنی وحی تحدیث کو موافق ومطابق پاکر ان احادیث کو جو اخبار وقصص سے متعلق ہیں اور تعامل کے سلسلہ سے باہرہیں مقدّم سمجھے اور ان ظنی امور کو اس یقین کے تابع کرے جو اس کو ایسے