پہلے ہی حکم کی طرف عود کرنے والااعتقاد کرنا پڑتاہے۔ کیونکہ اگر قصہ معراج پانچ مرتبہ واقع ہواہے تو پھر اس صورت میں یہ اعتقاد ہونا چاہیئے کہ پانچ ہی دفعہ اول نماز یں پچاس مقرّر کی گئیں اور پھر پانچ منظور کی گئیں۔ مثلًا پہلی دفعہ کے معراج کے وقت میں پچاس نمازؔ یں فرض کی گئیں اور ان پچا۵۰س میں تخفیف کرانے کے لئے جیسا کہ بخاری کی یہ پنج حدیثیں ہی ظاہر کررہی ہیں کئی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ اور اپنے رب میں آمدو رفت کی یہاں تک کہ پچا۵۰س نماز سے تخفیف کرا کر پانچ نمازیں منظورکرائیں اورخدائے تعالیٰ نے کہہ دیا کہ اب ہمیشہ کے لئے غیر مبدّل یہ حکم ہے کہ نمازیں پانچ مقرر ہوئیں اور قرآن بھی پانچ کے لئے نازل ہوگیا۔ اور حسب آیاتِ محکمہ قرآن کریم کے پانچ نمازوں پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔ اور سب قصہ لوگوں کو بھی سُنا دیا گیا کہ اب ہمیشہ کے لئے پانچ نمازیں مقرر ہوگئیں۔ لیکن کچھ عرصہ کے بعد جو دوسرا معراج ہوا توتمام پہلا ساختہ پرداختہ اس میں کالعدم کیاگیااور وہی پُرانا جھگڑا از سرِ نو پیش آگیاکہ خدائے تعالیٰ نے پھر نمازیں پچاس مقرر کر دیں اور قرآن میں جو حکم وارد ہوچکا تھا اس کا بھی کچھ لحاظ نہ رکھا اور منسوخ کردیا۔ مگر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی دفعہ کی طرح تخفیف کرانے کی غرض سے کئی دفعہ اپنے رب میں اور موسیٰ میں آمدورفت کرکے نمازیں پانچ مقرر کرائیں اور جناب الٰہی سے ہمیشہ کے لئے یہ منظور ی ہو گئی کہ نمازیں پانچ پڑھا کریں۔ اور قرآن میں یہ حکم غیر مبدل قرار پاگیا۔ لیکن پھر تیسری دفعہ کے معراج میں وہی مصیبت پیش آگئی اور نمازیں پچاس مقرر کی گئیں اور قرآن کریم کی غیرؔ متبدل آیتیں منسوخ کی گئیں۔ پھر بمشکل تمام بدستور مذکورہ بالا پچاس سے پانچ کرائیں۔ مگر چوتھی دفعہ کے معراج میں پھر پچاس مقرر کی گئیں۔پھر جیسا کہ بار بار لکھا گیا ہے نہایت التجا اور کئی دفعہ کی آمدورفت سے پانچ مقرر کرائیں اور خدائے تعالیٰ نے پختہ عہدکر لیا کہ اب پانچ رہیں گی۔ لیکن پھر پانچویں دفعہ کے معراج میں پھر پچاس مقرر کی گئیں۔ پھر بہت سی آمد ورفت کے بعد پانچ نمازیں