میں مثل قرآن ممتنع ہے تو کیوں کر وہ لوگ احادیث کو صحت اورمحفوظیت میں مثل قرآنؔ بنا سکتے ہیں۔ بعض نے احادیث معراج کا جو صحیح بخاری میں ہیں تعارض دُور کرنے کے لئے یہ جواب دیا ہے کہ حقیقت میں وہ صرف ایک ہی معراج نہیں بلکہ پانچ معراج ہوئے تھے۔ کوئی بیداری میں اور کوئی خواب میں اور کوئی بعد از زمانہ وحی اورکوئی قبل از زمانہ وحی۔ اورکوئی بیت اللہ میں اورکوئی اپنے گھر کے حجرہ میں۔ اسی وجہ سے انبیاء کی رویت میں بھی اختلاف پڑا۔ کبھی کسی کو کسی آسمان میں دیکھااورکبھی کسی آسمان میں۔ لیکن واضح ہو کہ تعارض دور کرنے کیلئے یہ جواب صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اگر پانچ معراج ہی تسلیم کئے جائیں تو پھر بھی وہ اختلاف جو انبیاء کی رویت کی نسبت پایاجاتا ہے کسی طرح دور نہیں ہوسکتا کیونکہ خود انہیں احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کیلئے خاص خاص مقامات آسمانوں میں مقرر ہوگئے ہیں۔ اسی وجہ سے و ہ حدیث معراج جو امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب التوحید میں لکھی ہے جو بخاری مطبوعہ کے صفحہ ۱۱۲۰ میں موجود ہے بآواز بلند پکار رہی ہے کہ ہریک نبی آسمانوں پر اپنے اپنے مقام پر قرار یاب ہے جس سے بڑھ نہیں سکتا کیونکہؔ اس حدیث میں یہ فقرہ بھی درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ کو ساتویں آسمان میں دیکھا اور جب ساتویں آسمان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگے جانے لگے تو موسیٰ نے کہا اے میرے رب مجھے یہ گمان نہ تھا کہ مجھ سے بھی زیادہ کسی کا رفع ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ اگرموسیٰ کے اختیار میں تھا کہ کبھی پانچویں آسمان پر آجائے اور کبھی چھٹے پر اور کبھی ساتویں پر تو یہ گریہ و بکا کیسا تھا جیسے پانچویں سے یا چھٹے سے ساتویں پر چلے گئے ایساہی آگے بھی جاسکتے تھے اور قرآن کریم سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی شخص عروج میں اپنے نفسی نقطہ سے آگے گذر نہیں سکتا۔ ماسوا اس کے پانچ معراجوں کے ماننے سے ایک اورمصیبت یہ پیش آتی ہے کہ قرآن کریم اور خدائے تعالیٰ کے احکام میں محض بے جا اور لغو طور پر منسوخیت ماننی پڑتی ہے اور اوامرنا قابل تبدیل اور مستمرہ کو فضول طورپر منسوخ مانناپڑتا ہے اور حکیم مطلق کو ایک لغو اور بے ضرورت تنسیخ کا مرتکب قرار دے کر پھر پشیمانی کے طورپر