ساتویں آسمان میں دیکھا۔ اور کسی میں لکھا ہے کہ موسیٰ کو ساتویں آسمان میں دیکھا اورابراہیم کو چھٹے میں۔ غرض اس قدر اختلاف ہیں کہ جن کے مفصل لکھنے کے لئے بہت سے اوراق چاہئیں۔ اب کیوں کر ممکن ہے کہ اگر ہرایک راوی ان تمام الفاظ کو بہ صحت تمام یاد رکھتاجو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مُنہ سے نکلے تھے تو اس قدر اختلاف اور تعارض اُن کے بیانات میں پایاجاتا۔ بلاشبہ بعض راوی بوجہ کمزوری حافظہ بعض الفاظ کو بھول گئے یا محل بے محل کا فرق یاد نہ رہا۔ اسی وجہ سے یہ صریح اختلافات پیداہوگئے۔ پس جبکہ احادیث کے ضبط الفاظ کایہ نمونہ ہے جو اس کتاب سے ملتاہے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے تو اس صورت میں اگر کوئیؔ حدیث صریح کتاب اللہ کے معارض ہویا ایسی باتوں کو بیان کرے جو اشارات النص کے مخالف ہوں تو کیوں کر ایسی حدیث کے وہ معنی مسلم رکھے جائیں جو قرآن کریم سے صریح تعارض رکھتے ہیں۔ جب کسی تعارض کے وقت حدیث کا بیان بمقابلہ بیان قرآن کریم کے چھوڑنا نفس پر شاق معلوم ہوتو حدیثوں کے باہمی تعارض پر نظر ڈال کرخود انصاف کرلینا چاہیئے کہ علاوہ اس کمال خاص قرآن کے کہ و ہ وحی متلو ہے محفوظیت کی رو سے بھی حدیثوں کوقرآن کریم سے کیا نسبت ہے۔ قرآن کریم کی جیسا کہ اس کی بلاغت وفصاحت وحقاق ومعارف کی رو سے کوئی چیز مثل نہیں ٹھہر سکتی۔ ایسا ہی اس کی صحت کاملہ اورمحفوظیت اورلاریب فیہ ہونے میں کوئی چیز اس کی مثیل نہیں۔ کیونکہ اس کے الفاظ و ترتیب الفاظ اورمحفوظیت تامہ کا اہتمام خدائے تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیاہے۔ اور ماسوا اس کے حدیث ہویا قول کسی صحابی کا ہو ان سب کا اہتمام انسانوں نے کیا ہے جو سہو اور نسیان سے بری نہیں رہ سکتے۔ اور ہرگز وہ لوگ محفوظیت تامہ اورصحت کاملہ میں احادیث اوراقوال کو مثل قرآن نہیں بنا سکتے تھے۔اور یہ عجزاُن کا اس آیت کریمہ کے اعجازات پیش کردہ میں داخل ہے۔ 3333 ۱؂ جب ہر ایک بات