موسیٰ کو اور ساتوؔ یں پر ابرہیم کو دیکھا۔ پھر بخاری کی کتاب التوحید والرد علی الجہمیہ میں صفحہ ۱۱۲۰ میں لکھا ہے کہ مسجد کعبہ میں تین شخص پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہنوز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منصب نبوت پر مامور نہیں ہوئے تھے یعنی وحی نازل ہونے اورمبعوث ہونے سے پہلے کازمانہ تھا اور آنحضرت صلعم مسجد حرا م میں سوئے ہوئے تھے جو معراج ہوا۔ لیکن اسی حدیث میں لکھا ہے کہ آنحضرت مبعوث ہوچکے تھے جب یہ معراج ہوا۔ پھر بغیر براق کے آسمان پر گئے اورادریس کو دوسرے آسمان میں دیکھا اورہارون کوچوتھے میں اور ابراہیم کو چھٹے آسمان میں۔ اور موسیٰ کو ساتویں میں۔ اور جب موسیٰ سے آگے ہوگذرے اور ساتویں آسمان سے عبور کرنے لگے تو موسیٰ نے کہا اے میرے رب مجھے یہ گمان نہیں تھاکہ مجھ سے بھی زیادہ کسی کا رفع ہوگا۔عربی عبارت یہ ہے فقال موسٰی ربّ لم اظن ان یرفع عَلَیَّ اَحد ( یہ وہی رفع ہے جس کی طرف آیت ورافعک الیّ میں اشارہ ہے) پھر اس حدیث کے آخر میں لکھا ہے کہ اس قدر واقعہ دیکھ کر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور جاگ اُٹھے۔ اوران پانچوں حدیثوں میں بالالتزام لکھا ہے کہ معراج کے وقت پہلے پچاس نمازیں مقرر ہوئیں اورپھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس سے تخفیف کرا کر پانچ منظورکرائیں۔ ابؔ دیکھنا چاہئے کہ ان پانچ حدیثوں میں کس قدراختلاف ہے۔ کسی حدیث میں براق کا ذکر ہے اورکسی میںیہ ہے کہ جبرائیل ہاتھ پکڑ کر لے گیا اور کسی میں بیداری اور کسی میں خواب لکھی ہے اور کسی میں لکھاہے کہ میں حجرہ میں لیٹا ہوا تھااورکسی میں لکھاہے کہ میں مسجد کعبہ میں تھا۔اورکسی میں لکھاہے کہ صرف جبرائیل آیا تھا اور کسی میں لکھا ہے کہ تین آدمی آئے تھے۔ اور کسی میں لکھا ہے کہ آدم کے بعد عیسیٰ اور یحییٰ کو دیکھا اور کسی میں لکھا ہے کہ آدم کے بعدادریس کو دیکھا اور کسی میں لکھا ہے کہ عیسیٰ کو دوسرے آسمان میں دیکھا اور موسیٰ کو چھٹے آسمان میں۔ اور کسی میں لکھا ہے کہ پہلے موسیٰ کو دیکھاپھر عیسیٰ کو۔ اورکسی میں یہ لکھاہے کہ ابراہیم کو