لایاگیاجس میں حکمت اورایمان بھراہوا تھا سو وہ میرے سینہ میں ڈالاگیاپھر جبرائیل میرا ہاتھ پکڑکر آسمان کی طرف لے گیا۔ مگر اس میں یہ نہیں لکھا کہ وہ طشت طلائی جو عین بیداری میں ملا تھا کیا ہوا اور کس کے حوالہ کیاگیا۔ بہرحال آسمان پر پہنچے اور ابراہیم کوچھٹے آسمان پر دیکھا اور سب سے اوّل آدم کو دیکھا۔ پھر ادریس کو دیکھا۔ پھر موسیٰ کو اور پھر ان سب کے بعد عیسیٰ کودیکھا۔ بعد اس کے ابراہیم کو دیکھا اورسب کے بعد بہشت کا مشاہدہ کیا اور پھر واپس آئے۔ اورکتاب بدء الخلق صفحہ ۴۵۵ بخاری میں یہ حدیث ہے کہ میں بیت اللہ کے پاس خواب اور بیداری کے درمیان تھا کہ تین فرشتے آدمیوں کی صورت پر آئے اور ایک جانور بھی حاضر کیاؔ گیا جس کا قد خچر سے کچھ کم مگر گدھے سے کچھ زیادہ تھا۔ پھر میں آسمان پر گیااوردوسرے آسمان پر یحییٰ اور عیسیٰ کو دیکھا۔ پھر تیسرے میں یوسف کو دیکھا اورچوتھے میں ادریس کو دیکھا اور پانچویں آسمان میں ہارون کی ملاقات ہوئی اورچھٹے آسمان میں موسیٰ کوملا۔ اورجب میں موسیٰ کے مقام سے آگے نکل گیا تو وہ رویا۔ پھر جب میں ساتویں آسمان میں گیا تو ابراہیم کو وہاں دیکھا۔ اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ۴۷۱ بخاری میں یہ حدیث ہے کہ معراج کی رات ابراہیم کو میں نے چھٹے آسمان میں دیکھا اور اس حدیث میں براق کا کوئی ذکر نہیں۔ صرف اتنا لکھا ہے کہ جبرائیل نے میرا ہاتھ پکڑا اور آسمان پر لے گیا اور اس حدیث میں یہ بھی لکھاہے کہ پہلے آدم کو دیکھا اورپھر ادریس کو پھر موسیٰ کو پھر عیسیٰ کو پھر ابراہیم کو۔ پھر بخاری کی کتاب المناقب صفحہ ۵۴۸ میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مَیں حطیم میں تھایا حجرہ میں لیٹا ہوا تھا کہ ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا دل نکالا۔ اسی اثناء میں ایک سونے کا طشت لایاگیاجس میں ایمان بھراہوا تھا۔ اس کے ساتھ میرا دل دھویاگیااورپھر میں براق پرسوارہوکر آسمان پرگیا اوردوسرے آسمان پر یحییٰ اور عیسیٰ کو دیکھا اور تیسرے آسمان پر یوسف کو پایااور چوتھے آسمان پر ادریس کو دیکھا اور پانچویں آسمان پر ہارون کو اورچھٹے پر