کہ اگر درحقیقت کوئی حدیث قرآن کریم سے معارض ومخالف ہے تو حدیث قابل تاویل ہے نہ کہ قرآن۔ کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ جواہراؔ ت مرصع کی طرح اپنے اپنے محل پر چسپاں ہیں اورنیز قرآن کریم کا ہر یک لفظ اورہر یک نقطہ تصرّف اوردخل انسان سے محفوظ ہے برخلاف حدیثوں کے کہ وہ محفوظ الالفاظ بکلی نہیں اور ان کے الفاظ کی یادداشت اور محل پر رکھنے میں وہ اہتمام نہیں ہواجو قرآن کریم میں ہوا۔ اسی وجہ سے ان میں تعارض بھی موجو د ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مقامات متعارضہ میں راویوں کے حافظہ نے وفا نہیں کی۔ اس جگہ ہم چند مقامات متعارضہ صحیح بخاری کے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب خیال کی گئی ہے اوردرحقیقت اصح ہے لکھتے ہیں۔ ازانجملہ وہی حدیث صفحہ ۶۵۲ بخاری ہے جس میں یہ لکھاہے کہ مس شیطان سے محفوظ صرف ابن مریم اور اس کی والدہ ہے لیکن حدیث صفحہ ۷۷۶ بخاری میں اس کے برخلاف درج ہے جس میں لکھا ہے کہ جو شخص صحبت کے وقت بِسْمِ اللّٰہ اللّٰھم الخ پڑھے اس کی اولاد مس شیطان سے محفوظ رہتی ہے۔ ایسا ہی بخاری کے صفحہ ۴۶۴ اور صفحہ ۲۶ کی حدیثیں بھی اس کے معارض پڑی ہیں۔ اور ایساہی بخاری کی وہ حدیث بھی جو صفحہ ۴۷۷ میں درج ہے جس میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے ایام بناء میں کس قدر فاصلہ ہے تو آپ نے فرمایا کہ چا۴۰لیس برس کا۔ حالانکہؔ روایت صحیح سے ثابت ہے کہ بانئ کعبہ ابراہیم علیہ السلام اور بان ئ بیت المقدس حضرت سلیمان ہے اور ان دونوں کے زمانہ میں ہزار برس سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ اسی وجہ سے ابن جوزی نے بھی اس حدیث پر لکھا کہ فیہ اشکال لان ابراھیم بنی الکعبۃ وسلیمان بنی بیت المقدس وبینھما اکثر من الف سنۃ۔ دیکھو صفحہ ۴۷۷ بخاری ایسا ہی معراج کی حدیثوں میں سخت تعارض واقعہ ہے۔ کتاب الصلوٰۃ صفحہ ۵۰ میں جو حدیث ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں مکہ میں تھا کہ چھت کو کھول کر حضرت جبرئیل میرے پاس آئے اور میرے سینہ کو کھولااورآب زمزم سے اس کو دھویا۔ پھر ایک سونے کا طشت