ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ صحابہ کرام اور سلف صالح کی یہی عادت تھی کہ جب کہیں آیت اورحدیث میں تعارض وتخالف پاتے تو حدیث کی تاویل کی طرف مشغول ہوتے۔ مگر اب یہ ایسا زمانہ آیا ہے کہ قرآن کریم سے حدیثیں زیادہ پیاری ہوگئی ہیں اورحدیثوں کے الفاظ قرآن کریم کے الفاظ کی نسبت زیادہ محفوظ سمجھے گئے ہیں۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں جب کسی حدیث کا قرآن کریم سے تعارض دیکھتے ہیں تو حدیث کی طرف ذرہ شک نہیں گذرتا یہودیوں کی طرح قرآن کریم کا بدلانا شروع کردیتے ہیں اورکلمات اللہ کو اُن کے اصل مواضع سے پھیرکر کہیں کا کہیں لگادیتے ہیں اور بعض فقرے اپنی طرف سے بھی ملادیتے ہیں اور اپنے تئیں33 ۱ کا ؔ مصداق بنا کر اس *** اللہ سے حصہ لے لیتے ہیں جو پہلے اس سے یہودیوں پر انہیں کاموں کی وجہ سے وارد ونازل ہوئی تھی۔ بعض تحریف کی یہ صورت اختیار کرتے ہیں کہ فقرہ متوفیک کو مقدّم ہی رکھتے ہیں مگر بعد اس کے انی محییک کا فقرہ اپنی طرف سے ملا لیتے ہیں۔ ذرہ خیال نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ نے تحریف کرنے والوں پر *** بھیجی ہے اور بخاری نے اپنی صحیح کے آخر میں لکھا ہے کہ اہل کتاب کی تحریف یہی تھی کہ وہ پڑھنے میں کتاب اللہ کے کلمات کو اُن کے مواضع سے پھیرتے تھے (اور حق بات یہ ہے کہ وہ دونوں قسم کی تحریف تحریری وتقریری کرتے تھے ) مسلمانوں نے ایک قسم میں جو تقریری تحریف ہے اُن سے مشابہت پیدا کرلی۔ اور اگر وعدہ صادقہ 33 ۲ تصرّف تحریری سے مانع نہ ہوتا تو کیاتعجب کہ یہ لوگ رفتہ رفتہ تحریر میں بھی ایسی تحریفیں شروع کردیتے کہ فقرہ رافعک کو مقدّم اور انی متوفیک کو مؤخر لکھ دیتے۔ اور اگر ان سے پوچھاجائے کہ تم پر ایسی مصیبت کیا آپڑی ہے کہ تم کتاب اللہ کے زیر وزبر اورمحرف کرنے کی فکر میں لگ گئے تو اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ تا کسی طرح قرآن کریم ان حدیثوں کے مطابق ہوجائے جن سے بظاہر معارض ومخالف معلوم ہوتاہے۔ ان بے چاروں کو اس بات کی طرف خیا ل نہیں آتا