فمعناہ کل من کان فی صفتھا لقولہ تعالٰی الا عبادک منھم المخلصین یعنی علّامہ زمخشری نے بخاری کی اس حدیث میں طعنؔ کیاہے اور اس کی صحت میں اس کو شک ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث معارض قرآن ہے اور فقط اس صورت میں صحیح متصور ہوسکتی ہے کہ اس کے یہ معنے کئے جاویں کہ مریم اور ا بن مریم سے مراد تمام ایسے لوگ ہیں جو اُن کی صفت پرہوں۔ ماسوا اس کے حسب آیت3۱؂ اور بحسب آیت کریمہ 333 ۲؂ ہریک حدیث جو صریح آیت کے معارض پڑے ردکرنے کے لائق ہے۔ اورآخری نصیحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تھی کہ تم نے تمسک بکتاب اللہ کرنا۔ جیساکہ بخاری کے صفحہ ۷۵۱ میں یہ حدیث درج ہے کہ اوصٰی بکتاب اللّٰہ۔ اسی وصیت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انتقال کر گئے۔ پھر اسی بخاری کے صفحہ ۱۰۸۰ میں یہ حدیث ہے و ھذا الکتٰب الذی ھدی اللّٰہ بہٖ رسولکم فخذوا بہٖ تھتدوا یعنی اسی قرآن سے تمہارے رسول نے ہدایت پائی ہے سو تم بھی اسی کو اپنا رہنما پکڑو تا تم ہدایت پاؤ۔ پھر بخاری کے صفحہ ۲۵۰ میں یہ حدیث ہے ما عندنا شی ء الا کتاب اللّٰہ یعنی کتاب اللہ کے سوا ہمارے پاس اور کوئی چیز نہیں جس سے بالاستقلال تمسک پکڑیں۔ پھر بخاری کے صفحہ ۱۸۳ میں یہ حدیث ہے حسبکم القراٰن یعنی تمہیں قرآن کافی ہے۔ پھر بخاری میں یہ بھی حدیث ہے حسبنا کتٰب اللّٰہؔ ما کان من شرط لیس فی کتٰب اللّٰہ فھو باطل قضاء اللّٰہ احق دیکھو صفحہ ۲۹۰،۳۷۷،۳۴۸۔اور یہی اصول محکم ائمہ کبار کا ہے۔ چنانچہ تلویح میں لکھاہے انما یرد خبر الواحد من معارضۃ الکتٰب۔ پس جس صورت میں خبرواحد جس میں احادیث بخاری ومسلم بھی داخل ہیں بحالت معارضہ کتاب اللہ رد کرنے کے لائق ہے۔ تو پھر کیا یہ ایمانداری ہے کہ اگر کسی آیت کا کسی حدیث سے تعار ض معلوم ہو تو آیت کے زیر وزبر کرنے کی فکر میں ہوجائیں اور حدیث کی تاویل کی طرف رُخ بھی نہ کریں۔