الحاد اور صریح بے ایمانی میں داخل ہوگی۔
اگر یہ کہاجائے کہ ہم یہ تحریفات وتبدیلات بلاضرورت نہیں کرتے بلکہ آیات قرآنی کو بعض احادیث سے مطابق وموافق کرنے کے لئے بوجہ اشد ضرورت اس حرکت بے جا کے مرتکب ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو آیت اور حدیث میں باہم تعارض واقع ہونے کی حالت میں اصول مفسرین ومحدثین یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حدیث کے معنوں میں تاویل کر کے اس کو قرآن کریم کے مطابق کیاجائے۔جیسا کہ صحیح بخاری کی کتاب الجنائز صفحہ ۱۷۲ میں صاف لکھاہے کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے حدیث ان المیت یعذب ببعض بکاء اھلہ کو قرآن کریم کی اسؔ آیت سے کہ3 ۱ معارض ومخالف پاکر حدیث کی یہ تاویل کردی کہ یہ مومنوں کے متعلق نہیں۔ بلکہ کفار کے متعلق ہے جو متعلقین کے جزع فزع پر راضی تھے بلکہ وصیت کرجاتے تھے پھر بخاری کے صفحہ ۱۸۳ میںیہ حدیث جو لکھی ہے قال ھل وجدتم ماوعدکم ربکم حقّا۔ اس حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ نے اس کے سیدھے اور حقیقی معنی کے رو سے قبول نہیں کیا اس عذر سے کہ یہ قرآن کے معارض ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتاہے 33 ۲ اور ابن عمر کی حدیث کو صرف اسی وجہ سے رد کردیاہے کہ ایسے معنے معارض قرآن ہیں۔ دیکھو بخاری صفحہ ۱۸۳۔ ایسا ہی محققوں نے بخاری کی اس حدیث کو جو صفحہ ۶۵۲ میں لکھی ہے یعنی یہ کہ مامن مولود یولد الا والشیطٰن یمسّہ حین یولد الا مریم وابنھا۔ قرآن کریم کی ان آیات سے مخالف پاکر کہ 3۳ 33 ۴ ۔3 ۵ اس حدیث کی یہ تاویل کردی۔کہ ابن مریم اور مریم سے تمام ایسے اشخاص مراد ہیں جو ان دونوں کی صفت پرہوں جیساکہ شارح بخاری نے اس حدیث کی شرح میں لکھاہے۔
قد طعن الزمخشری فی معنی ھذا الحدیث و توقف فی صحتہ و قال ان صح