زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کرے گا کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔ ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنے سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامّہ نہیں مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔ امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزّہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیا کی طرح مامور ہوکر آتا ہے اور انبیا کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔
اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوّت مسدود ہے اور وحی جو انبیاءپر نازل ہوتی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوّت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر یک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اِس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔ مگر اس بات کو بحضور دل یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا نبوّت تامہ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کرچکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے جو انسان کامل کے اقتدا سے ملتی ہے جو مستجمع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فاعلم ارشدک اللّٰہ تعالیٰ انَّ النبی محدث والمحدّث نبی باعتبار حصول نوع من انواع النبوت و قد قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یبق من النبوت الا المبشرات ای لم یبق من انواع النبوت الا نوع واحد وھی المبشرات من اقسام الرو
یا الصادقة والمکاشفات الصحیحة و الوحی الذی ینزل علی خواص الاولیاءوالنور الذی یتجلّٰی علٰی