بے طرح ہاتھ پیرماررہے ہیں اور کلام الٰہی کی تحریف وتبدیل پرکمر باندھ لی ہے وہ نہایت تکلف سے خدائے تعالیٰ کی ان چار ترتیب وار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیبؔ طبعی سے منکر ہو بیٹھے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ اگرچہ فقرہ مطھرک من الذین کفروا اور فقرہ وجاعل الذین اتبعوک بترتیب طبعی واقع ہیں۔ لیکن فقرہ انّی متوفیک اور فقرہ ورافعک الیّ ترتیب طبعی پر واقع نہیں ہیں بلکہ دراصل فقرہ انّی متوفیک مؤخر اور فقرہ رافعک الیّ مقدّم ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے باوجود اس کے کہ کلام بلاغت نظام حضرت ذات احسن المتکلّمین جلَّ شَانُہٗ کو اپنی اصل وضع اورصورت اور ترتیب سے بدلا کر مسخ کردیا۔ اور چار فقروں میں سے دو فقروں کی ترتیب طبعی کو مسلّم رکھا اوردو فقروں کو دائرہ بلاغت وفصاحت سے خارج سمجھ کر اپنی طرف سے اُن کی اصلاح کی یعنی مقدم کو مؤخر کیا اور مؤخر کومقدم کیا۔ مگر باوجود اس قدر یہودیانہ تحریف کے پھر بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ کیونکہ اگر فرض کیاجائے کہ فقرہ انی رافعک الیّ فقرہ انی متوفّیک پر مقدم سمجھناچاہیے تو پھر بھی اس سے محرفین کا مطلب نہیں نکلتا۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اے عیسیٰ میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور وفات دینے والا ہوں اور یہ معنے سراسر غلط ہیں کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی آسمان پر ہی وفات ہو وجہ یہ کہ جب رفع کے بعد وفات دینے کاذکر ہے اور نزول کا درمیان کہیں ذکر نہیں۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آسمان پر ہی حضرت عیسیٰ وفاتؔ پائیں گے۔ ہاں اگر ایک تیسرا فقرہ اپنی طرف سے گھڑاجائے اور ان دونوں فقروں کے بیچ میں رکھاجائے اور یوں کہا جائے یاعیسٰی اِنّی رافِعُک ومُنزّلک ومُتوفّیک تو پھر معنے درست ہوجائیں گے۔ مگر ان تمام تحریفات کے بعد فقرات مذکورہ بالا خدائے تعالیٰ کا کلام نہیں رہیں گے۔ بلکہ بباعث دخل انسان اور صریح تغییر وتبدیل وتحریف کے اسی محرف کا کلام متصوّرہوں گے۔ جس نے بے حیائی اورشوخی کی راہ سے ایسی تحریف کی ہے۔ اور کچھ شبہ نہیں کہ ایسی کارروائی سراسر