پاک اور منزّہ رکھوں گایعنی مصلوبیت اور اس کے بدنتائج سے جولعنتی ہونااورنبوت سے محروم ہونا اور رفع سے بے نصیب ہوناہے۔ اور اس جگہتَوَفِّی کے لفظ میں بھی مصلوبیت سے بچانے کے لئے ایک باریک اشارہ ہے۔ کیونکہتَوَفِّی کے معنے پر غالب یہی بات ہے کہ موت طبعی سے وفات دی جائے۔ یعنی ایسی موت سے جو محض بیماری کی وجہ سے ہو نہ کسی ضربہ سقطہ سے۔ اسی وجہ سے مفسرین صاحب کشاف وغیرہ انی متوفیک کی یہ تفسیر لکھتے ہیں کہ انی ممیتک حتف انفک ۔ ہاں یہ اشارہ آیت کے تیسرے فقرہ میں کہ مطھرک من الذین کفروا ہے اور بھی ؔ زیادہ ہے۔غرض فقرہ مطھرک من الذین کفروا جیسا کہ تیسرے مرتبہ پر بیان کیاگیاہے ایسا ہی ترتیب طبعی کے لحاظ سے بھی تیسری مرتبہ پر ہے۔ کیونکہ جبکہ حضرت عیسیٰ کا موت طبعی کے بعد نبیوں اورمقدسوں کے طورپرخدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوگیا۔تو بلاشبہ وہ کفار کے منصوبوں اور الزاموں سے بچائے گئے اورچوتھا فقرہ وجاعل الذین اتبعوک جیسا کہ ترتیبًا چوتھی جگہ قرآن کریم میں واقع ہے ایساہی طبعًا بھی چوتھی جگہ ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ کے متبعین کاغلبہ ان سب امورکے بعد ہوا ہے۔سو یہ چار فقرے آیت موصوفہ بالا میں ترتیب طبعی سے واقعہ ہیں اوریہی قرآن کریم کی شان بلاغت سے مناسب حال ہے۔ کیونکہ امور قابل بیان کا ترتیب طبعی سے بیان کرنا کمال بلاغت میں داخل اور عین حکمت ہے۔ اسی وجہ سے ترتیب طبعی کا التزام تمام قرآن کریم میں پایاجاتاہے۔ سورۂ فاتحہ میں ہی دیکھو کہ کیوں کر پہلے رب العالمین کاذکر کیا۔ پھر رحمٰن پھر رحیم پھر مالک یوم الدین اور کیوں کر فیض کے سلسلہ کوترتیب وار عام فیض سے لے کر اخصّ فیض تک پہنچایا۔غرض موافق عام طریق کامل البلاغت قرآن کریم کی آیت موصوفہ بالا میں ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں لیکن حال کے متعصّب ملّا جن کو یہودیوں کی طرز پر
۱ کی عادت ہے اور جو مسیح ابن مریم کی حیات ثابت کرنے کے لئے