اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے ترتیب وار اپنے تئیں فاعل ٹھہراکر چار فعل اپنے یکے بعد دیگرے بیان کئے ہیں۔ جیساکہ وہ فرماتا ہے کہ اے عیسیٰ میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار کے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دینے والاہوں اور ظاہر ہے کہ یہ ہر چہار فقرے ترتیب طبعی سے بیان کئے گئے ہیں۔کیونکہ اس میں شک نہیں کہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی طرف بلایا جاوے اور ارجعی الٰی ربّک کی خبر اس کو پہنچ جائے پہلے اس کا وفات پاناضروری ہے۔ پھر بموجب آیت کریمہ 3۳؂ اور حدیث صحیح کے اس کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتاہے۔ اور وفات کے بعد مومن کی روح کا خداتعالیٰ کی طرف رفع لازمی ہے جس پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ناطق ہیں پھر بعدا س کے جو خدائے تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو فرمایا جو میں تجھےؔ کفارکے الزاموں سے پاک کرنے والا ہوں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہودچاہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مصلوب کرکے اس الزام کے نیچے داخل کریں جو توریت باب استثناء میں لکھاہے جومصلوب *** اور خدائے تعالیٰ کی رحمت سے بے نصیب ہے۔ جو عزت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایانہیں جاتا۔ سو خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو اس آیت میں بشارت دی کہ تو اپنی موت طبعی سے فوت ہوگا اور پھر عزت کے ساتھ میری طرف اُٹھایاجائے گا اورجوتیرے مصلوب کرنے کے لئے تیرے دشمن کو شش کر رہے ہیں ان کوششوں میں وہ ناکام رہیں گے اور جن الزاموں کے قائم کرنے کے لئے وہ فکر میں ہیں اُن تمام الزاموں سے میں تجھے