لفظ موؔ ت اوراماتت کے جو متعدّد المعنی ہے اور نیند اور بے ہوشی اور کفر اور ضلالت اور قریب الموت ہونے کے معنوں میں بھی آیا ہے۔تَوَفِّی کا لفظ کہیں دکھاوے مثلًا یہ کہ توفاہ اللّٰہ ماءۃ عام ثم بعثہ۔ توایسے شخص کو بھی بلا توقف ہزار روپیہ نقددیاجاوے گا۔ * المشتہر خاکسار غلام احمد از لودھیانہ محلہ اقبال گنج فوت کے بعد زندہ کرنے کے متعلق جس قدر قرآن کریم میں آیتیں ہیں کوئی اُن میں سے حقیقی موت پر محمول نہیں ہے۔ اور حقیقی موت کے ماننے سے نہ صرف اس جگہ یہ لازم آتا ہے کہ وہ آیتیں قرآن کریم کی اُن سولہ آیتوں اور اُن تمام حدیثوں سے مخالف ٹھہرتی ہیں جن میں یہ لکھا ہے کہ کوئی شخص مرنے کے بعد پھر دنیامیں نہیں بھیجا جاتا۔ بلکہ علاوہ اس کے یہ فساد بھی لازم آتا ہے کہ جان کندن اور حساب قبر اور رفع الی السماء جو صرف ایک دفعہ ہونا چاہیئے تھا دو دفعہ ماننا پڑتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ اب شخص فوت شدہ حساب قبر کے بعد قیامت میں اٹھے گا کذب صریح ٹھہرتا ہے۔ اور اگر ان آیتوں میں حقیقی موت مراد نہ لیں تو کوئی نقص لازم نہیں آتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے یہ بعید نہیں کہ موت کے مشابہ ایک مدت تک کسی پر کوئی حالت بے ہوشی وارد کرکے پھر اس کو زندہ کردیوے مگر وہ حقیقی موت نہ ہو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ جب تک خداتعالےٰ کسی جاندار پر حقیقی موت وارد نہ کرے وہ مر نہیں سکتا۔ اگرچہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جاوے۔