جنہوں نے غرور اور تکبر کی راہ سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تَوَفِّی کا لفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنی پورا لینے کے ہیں یعنی جسم اور روح کو بہ ہیئت کذائی زندہ ہی اٹھا لینا اور وجود مرکب جسم اور روح میں سے کوئی حصہ متروک نہ چھوڑنا۔بلکہ سب کو بحیثیت کذائی اپنے قبضہ میں زندہ اورصحیح سلامت لے لینا۔ سو اسی معنی سے انکارکر کے یہ شرطی اشتہار ہےؔ ۔ ایسا ہی محض نفسانیت اورعدم واقفیت کی راہ سے مولوی محمد حسین صاحب نے اَلدّجّال کے لفظ کی نسبت جو بخاری اورمسلم میں جا بجا دجّال معہود کا ایک نام ٹھہرایا گیا ہے یہ دعویٰ کردیاہے کہ اَلدّجّال دجّال معہود کاخاص طور پر نام نہیں بلکہ ان کتابوں میں یہ لفظ دوسرے دجّالوں کے لئے بھی مستعمل ہے اور اس دعوی کے وقت اپنی حدیث دانی کا بھی ایک لمبا چوڑا دعویٰ کیا ہے۔ سو اس وسیع معنی اَلدّجّال سے انکار کر کے اور یہ دعویٰ کر کے کہ یہ لفظ اَلدّجّال کا صرف دجّال معہود کے لئے آیا ہے او ربطور علم کے اس کے لئے مقرر ہوگیاہے۔ یہ شرطی اشتہار جاری کیا گیاہے۔ مولوی محمد حسین صاحب اوراُن کے ہم خیال علماء نے لفظتَوَفِّی اور اَلدّجّال کی نسبت اپنے دعویٰ متذکرہ بالا کو بپایہ ثبوت پہنچادیا تو و ہ ہزارروپیہ لینے کے مستحق ٹھہریں گے اورنیز عام طورپریہ عاجز یہ اقرار بھی چند اخباروں میں شائع کردے گا کہ درحقیقت مولوی محمد حسین صاحب اوراُن کے ہم خیال فاضل اور واقعی طور پر محدّث اور مفسر اور رموز اوردقائق قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے سمجھنے والے ہیں۔ اگر ثابت نہ کرسکے تو پھر یہ ثابت ہوجائے گا کہ یہ لوگ دقائق وحقائق بلکہ سطحی معنوں قرآن اورحدیث کے سمجھنے سے بھی قاصراور سراسر غبی اور پلید ہیں اور در پردہ اللہ اور رسول کے دشمن ہیں کہ محض الحادکی راہ سے واقعی اور حقیقی معنوں کو ترک کرکے اپنے گھر کے ایک نئے معنے گھڑتے ہیں۔ایسا ہی اگر کوئی یہ ثابت کر دکھاوے کہ قرآن کریم کی وہ آیتیں اور احادیث جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کوئی مردہ دنیا میں واپس نہیں آئے گاقطعیۃ الدلالت نہیں اور نیز بجائے