انّما یُخاطب بھذا الکلام الانسان الکامل واللّٰہ یختص برحمتہ من یشآء یعنی اے دوست تمہیں معلوم ہو کہ اللہ جلَّ شَانُہٗ کا بشر کے ساتھ کلام کرناکبھی روبرو اور ہمکلامی کے رنگ میں ہوتا ہے اور ایسے افراد جو خدائے تعالیٰ کے ہمکلام ہوتے ہیں وہ خواص انبیاء میں سے ہیں۔اور کبھی یہ ہمکلامی کا مرتبہ بعض ایسے مکمل لوگوں کو ملتاہے کہ نبی تو نہیں مگر نبیوں کے متبع ہیں اور جو شخص کثرت سے شرف ہمکلامی کاپاتا ہے اس کو محدّث بولتے ہیں۔ اوریہ مکالمہ الہٰی از قسم الہام نہیں بلکہ غیر الہام ہے اور یہ القاء فی الروع بھی نہیں ہے اور نہ اس قسم کا کلام ہے جو فرشتہ کے ساتھ ہوتاہے۔ اس کلام سے وہ شخص مخاطب کیاجاتا ہے جو انسان کامل ہو اور خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتاہے۔ انؔ عبارات سے معلوم ہواکہ درحقیقت الہام اور چیز ہے اورمکالمہ الٰہی اور چیز ہے۔ اور سیّد صاحب اپنی کتاب تبیین الکلام کے صفحہ ۷ میں اس بیان مذکورہ بالا کا صاف اقرار کرتے ہیں۔ ناظرین کو چاہیئے کہ صفحہ ۷ تبیین الکلام کاضرور پڑھیں تا معلوم ہوکہ سیّد صاحب آپ ہی پہلے ان تمام باتوں کا اقرار کرچکے ہیں اور اب بعد اقرار کسی مصلحت سے انکاری ہو بیٹھے ہیں۔ اور سیّد صاحب کا یہ فرمانا کہ الہام بے سُود ہے خود بے سود ہے۔ کیونکہ اگر وہ الہام بے سُود ہے جس کی سیّد صاحب نے تعریف اپنے مضمون میں کی ہے تو ہوا کرے۔لیکن کلام الٰہی تو بے سُود نہیں اورنعوذ باللہ کیوں کر بے سُود ہو۔ وہی تو ایک ذریعہ کامل معرفت کا ہے جس کی وجہ سے انسان اس پُر غبار دنیا میں صرف خود تراشیدہ خیالات سے خدائے تعالیٰ کی ہستی کا قائل نہیں ہوتا بلکہ اُس حیّ وقیوم کے مُنہ سے انا الموجود کی آواز بھی سُن لیتا ہے اور صدہا فوق العادت پیشگوئیوں اوراسرار عالیہ کی وجہ سے جو اس کلام کے ذریعہ منکشف ہوتے ہیں۔ متکلّم پر ایمان لانے کے لئے حق الیقین کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے