نِگاہ میں یہی کلام ہے اور اس بات کے ثبوت کے لئے کہ خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ اپنا کلام اپنے بندوں پر نازل کرے۔ ایک مسلمان کے لئے قرآن کریم اوراحادیث نبویہ کافی ہیں خدائے تعالیٰ کا اپنے نبیوں سے ہمکلام ہونا اور اولیاء میں سے حضرت موسیٰ کی والدہ پر اپنا کلام نازل کرنا۔ حضرت خضر کو اپنے کلام سے مشرف کرنا۔ مریم صدیقہ سے اپنے فرشتہ کی معرفت ہمکلام ہونا وغیرہ وغیرہ۔ اسؔ قدر قرآن کریم میں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ حاجتِ بیان نہیں۔ اور صحیح بخاری میں صفحہ ۵۲۱ میں مناقب حضرت عمر رضی اللہ عنہ میں یہ حدیث لکھی ہے قد کان فی من قبلکم من بنی اِسرَائیل رجالٌ یکلّمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی اُمَّتِی مِنْھُمْ احدٌ فعمر۔ یعنی تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ گذرے ہیں کہ خدائے تعالیٰ اُن سے ہمکلام ہوتا تھا بغیر اس کے کہ وہ نبی ہوں سو اگر ایسے لوگ اس اُمّت میں ہیں تو وہ عمر ہے۔ ایسا ہی جمیع مشاہیر اولیاء کرام اپنے ذاتی تجارب سے اس بات کی گواہی دیتے آئے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کو اپنے اولیاء سے مکالمات ومخاطبات واقع ہوتے ہیں اور کلام لذیذ رب عزیز کی بوقتِ دعا اوردوسرے اوقات میں بھی اکثر وہ سنتے ہیں۔ دیکھنا چاہیئے کہ فتوح الغیب میں سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کس قدرجابجا اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ کلام الٰہی اس کے مقرب اولیاء پر ضرور نازل ہوتا ہے اور وہ کلام ہوتا ہے نہ فقط الہام اور حضرت مُجدّد الف ثانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی صفحہ ۹۹ میں ایک مکتوب بنام محمدؐ صدیق لکھتے ہیںؔ ۔ جس کی عبارت یہ ہے۔ اعلم ایّھا الصِّدیق انّ کلامہ سُبحانہ‘ مع البشر قد یکون شفاھا وذالک الافراد من الانبیاء وقد یکون ذالک لبعض الکمل من متابعیھم واذا کثر ھذا القسم من الکلام مع واحدٍ منہم سُمی مُحدثا وھذا غیر الالھام وغیرالالقاء فی الروع وغیرالکلام الذی مع الملک