اور ایسے شخص کا جلیس بھی ان روحانی منافع وفوائد سے محروم نہیں رہتا بلکہ رفتہ رفتہ یہا ں تک اس کو قوت یقین مل جاتی ہے کہ گویا خدائے عزّ وجلّ کودؔ یکھ لیتا ہے۔ اگر سید صاحب اس بات کا کسی اخبار میں اعلان دیں کہ ہمیں اس بات پر ایمان نہیں کہ یہ مرتبہ خدا تعالیٰ کی ہمکلامی کا انسان کو مل سکتا ہے اور ان تمام شہادتوں سے انکار ظاہرکریں کہ جو روحانی تجربہ کاروں رسولوں اور نبیوں اورولیوں نے پیش کی ہیں تو اس عاجز پرفرض ہوگا کہ اسی فوق العادت طریق سے جس کی بنیاد خدائے تعالیٰ کے پاک نبیوں نے ڈالی ہے۔ آزمائش کے لئے سیّد صاحب کو بذریعہ کسی اخبار کے کھلے کھلے طور پر دعوت کرے۔ اور اگر سیّد صاحب طالبِ حق ہوں گے تو اس رُوحانی دعوت کو بسروچشم قبول کرلیں گے۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ۔ تَوَفّی کے لفظ کی نسبت اور نیز الدجّال کے بارے میں ہزار روپیہ کا اشتہار تمام مسلمانوں پر واضح ہو کہ کمال صفائی سے قرآن کریم اورحدیث رسول اللہ صلعم سے ثابت ہوگیا ہے کہ درحقیقت حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام برطبق آیت33 ۱؂ زمین پر ہی اپنی جسمانی زندگی کے دن بسرکر کے فوت ہوچکے ہیں اورقرآن کریم کی سو۱۶لہ آیتوں اوربہت سی حدیثوں بخاری اور مسلم اور دیگر صحاح سے ثابت ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر آباد ہونے اور بسنے کے لئے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے اورنہ حقیقی اورواقعی طور پر دو موتیں کسی پر واقع ہوتی ہیں اورنہ قرآن کریم میں واپس آنے والوں کے لئے کوئی قانون وراثت موجود ہے۔ بااینہمہ بعض علماء وقت کو اس بات پرسخت غلو ہے کہ مسیح ابن مریم فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہی آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور حیات جسمانی دنیوی کے ساتھ آسمان پر موجود ہے اورنہایت بے باکی اورشوخی کی راہ سے کہتے ہیں کہتَوَفِّی کالفظ جو قرآن کریم میں حضرت مسیح کی نسبت آیا ہے اس کے معنے وفات دینا نہیں ہے بلکہ