جب انسان کی روح نفسانی آلائشوں سے پا ک ہوکر اوراسلام کی واقعی حقیقت سے کامل رنگ پکڑ کر خدائے تعالیٰ کی بے نیاز جناب میں رضا اور تسلیم کے ساتھ پوری پوری وفاداری کو لے کر اپناسر رکھ دیتی ہے اورایک سچی قربانی کے بعد جو فدائے نفس ومال و عزّت ودیگر لوازم محبوبۂ نفس سے مراد ہے محبت اور عشق مولیٰ کے لئے کھڑی ہوجاتی ہے اور تمام حُجبِ نفسانی جو اُس میں اور اُس کے رب میں دُور ی ڈال رہے تھے معدوم اورزائل ہوجاتے ہیں اور ایک انقلاب عظیم اورسخت تبدیلی اس انسان کی صفات اور اس کی اخلاقی حالت اور اس کی زندگی کے تمام جذبات میں پیدا ہو کر ایک نئی پیدائش اورنئی زندگی ظہور میں آجاتی ہے اوراس کی نظر شہود میں وجود غیر بکلّی معدوم ہوجاتاہے۔ تب ایسا انسان اس لائق ہوجاتا ہے کہ مکالمہ الٰہی سے بکثرت مشرف ہو۔ اور مکالمہ الٰہی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ محدود اورمشتبہ معرفت سے انسان ترقی کر کے اس درجہ شہود پر پہنچتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اس نے دیکھ لیاہے۔ سو یہ وہ مقام ہے جس پر تمام مقامات معرفت و خداشناسی کے ختم ہوجاتے ہیں اور یہی وہ آخری نقطہ کمالات بشریہ کا ہے جس سے بڑھ کر عرفان کے پیاسوں کے لئے اس دنیا میں ہرگز میسرؔ نہیں آسکتا اورنبیوں اورمحدثوں کے لئے اس کے حصول کا اکثر طور پر قدرتی طریق یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ چاہتا ہے کہ کسی پر اُن میں سے اپنا کلام نازل کرے تو روحانی طورپر بغیر توسط جسمانی اسباب کے اس پر ربودگی اوربیہوشی طاری کی جاتی ہے۔ تب وہ شخص اپنے وجود سے بکلّی گم ہوکربلا اختیار جناب الٰہی کی ایک خاص کشش سے گہرے غوطہ میں چلا جاتاہے اورہوش آنے کے وقت ساتھ اپنے ایک کلام لذیذ لے آتا ہے وہی وحی الہٰی ہے۔
یہ کلام جو خدا تعالیٰ کے پیاروں اور مقدسوں پر نازل ہوتا ہے یہ کوئی وہمی اور خیالی بات نہیں ہوتی۔ جس کو انسان کا نفس آپ ہی پیداکرسکے بلکہ یہ واقعی اورحقیقی طور پر اس ذات لایدرک کا کلام ہوتاہے جس کی ہستی کا انتہائی اوراعلیٰ درجہ کاثبوت عارفوں کی