مسیح اوّل اور مسیح ثانی میں مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے صرف یہی نہیں فرمایا کہ مسیح ثانی ایک مرد مسلمان ہو گا اور شریعت قرآنی کے موافق عمل کرے گا اور مسلمانوں کی طرح صوم و صلٰوة وغیرہ احکام فرقانی کا پابند ہو گا اور مسلمانوں میں پیدا ہو گا اور ان کا امام ہو گا اور کوئی جداگانہ دین نہ لائے گا اور کسی جداگانہ نبوت کا دعویٰ نہیں کرے گا بلکہ یہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ مسیح اوّل اور مسیح ثانی کے حلیہ میں بھی فرق بیّن ہو گا۔چنانچہ مسیح اوّل کا حلیہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج کی رات میں نظر آیا وہ یہ ہے کہ درمیانہ قد اور سرخ رنگ اور گھنگروالے بال اور سینہ کشادہ ہے دیکھو صحیح بخاری صفحہ۹۸۴ لیکن اسی کتاب میں مسیح ثانی کا حلیہ جناب ممدوح نے یہ فرمایا ہے کہ وہ گندم گوں ہے اور ا س کے بال گھنگر والے نہیں ہیں اور کانوں تک لٹکتے ہیں اب ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ دونوں ممیز علامتیں جو مسیح اول اور ثانی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمائی ہیں کافی طور پریقین نہیں دلاتیں کہ مسیح اول اورہے اور مسیح ثانی اور ان دونوں کو ابن مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف استعارہ ہے جو باعتبار مشابہت طبع اور روحانی خاصیت کے استعمال کیا گیا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ اندرونی خاصیت کی مشابہت کی رو سے دو نیک آدمی ایک ہی نام کے مستحق ہو سکتے ہیں اور ایسا ہی دو بد آدمی بھی ایک ہی بد مادہ میں شریک مساوی ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے قائم مقام کہلا سکتے ہیں مسلمان لوگ جو اپنے بچوں کے نام احمد اور موسیٰ اور عیسیٰ اور سلیمان اور داؤد وغیرہ رکھتے ہیں تو درحقیقت اسی تفاول کا خیال انہیں ہوتا ہے جس سے نیک فال کے طور پر یہ ارادہ کیا جاتا ہے کہ یہ بچے بھی ان بزرگوں کی روحانی شکل اور خاصیت ایسی اتم اور اکمل طور سے پیدا کرلیں کہ گویا انہی کا روپ ہوجائیں۔
اِس جگہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ مسیح کا مثل بھی نبی چاہیئے کیونکہ مسیح نبی تھا۔ تو اس کا اوّل جواب تو یہی ہے کہ آنے والے مسیح کے لئے ہمارے سید و مولیٰ نے نبوت شرط نہیں ٹھہرائی بلکہ صاف طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہوگا اور اس سے