توصرف اسی قدرمعنے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے بوجہ علت العلل ہونے کے بدوں کو اُن کے مناسب حال اور نیکوں کو اُن کے مناسب حال اُن کے جذبات نفسانی یا متقیانہ جوشوں کے موافق اپنے قانو ن قدرت کے حکم سے خیالات و تدابیر وحیل مطلوبہ کے ساتھ تائید دیتا ہے یعنی نئے نئے خیالات و حیل مطلوبہ اُن کو سوجھا دیتا ہے یا یہ کہ اُن کے جوشوں اور جذبوں کو بڑھاتا ہے اور یا یہ کہ اُن کے تخم مخفی کو ظہور میں لاتا ہے۔ مثلًا ایک چور اس خیال میں لگا رہتا ہے کہ کوئی عمد ہ طریقہ نقب زنی کا اس کو معلوم ہوجائے تو اُس کو سوجھایاجاتاہے۔ یا ایک متقی چاہتا ہے کہ وجہ حلال کی قوت کے لئے کوئی سبیل مجھے حاصل ہو تواس بارہ میں اس کو بھی کوئی طریق بتلایاجاتا ہے۔ سو عام طور پر اس کا نامؔ الہام ہے جو کسی نیک بخت یا بدبخت سے خاص نہیں بلکہ تمام نوع انسان اور جمیع افراد بشر اس علۃ العلل سے مناسب حال اپنے اس الہام سے مستفیض ہورہے ہیں۔
لیکن اس سے بہت اوپر چڑھ کر ایک اور الہام بھی ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں وحی کے لفظ سے یاد کیا ہے نہ الہام سے۔ اور اس کی تعریف یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ایک تجلی خاص کا نام ہے جو بکثرت انہیں پرہوتی ہے جو خاص اورمقرب ہوں۔ اور اس کی علّت غائی یہ ہے کہ شبہات او ر شکوک سے نکالنے کے لئے یا ایک نئی یامخفی بات کے بتانے کے لئے یاخدا تعالیٰ کی مرضی اورعدم مرضی اور اس کے ارادہ پر مطلع کرنے کے لئے یاکسی محل خوف سے مامون اور مطمئن کرنے کے لئے یا کسی بشار ت کے دینے کے لئے منجانب اللہ پیرایہ مکالمہ و مخاطبہ اور ایک کلام لذیذ کے رنگ میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ وہ ایک غیبی القاء لفظوں کے ساتھ ہے جس کا ادراک غالبًا غیبتِ حس کی حالت میں سماع کے طور پر یاجریان علی اللسان کے طورپر یا رویت کے طورپرہوتاہے اوراپنے نفس اورامور خیالیہ کو اس میں کچھ دخل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ محض الٰہی تحریک اور ربّانی نفخ سے ایک قدرتی آواز ہے جس کومورد وحی کی قوت حاسّہ دریافت کرؔ لیتی ہے۔