اور کوئی ثبوت اُن کے محقّقہ اور واقعیہ ہونے کا نہیں۔ صوفیاء کرام کے تمام الہامات بجُز تخیلات نفسی کے زیادہ رتبہ نہیں رکھتے اور محض ہیچ پوچ اور بیکار ہیں۔ نہ اُن سے خلق اللہ کو کچھ نفع ہے اور نہ ضرر۔دین اسلام تو بموجب الیوم اکملت لکم دینکم کامل ہوچکا اب الہام اس میں کوئی نئی بات پیدا نہیں کر سکتا۔ جو لوگ کسی ملہم کو خدا رسیدہ سمجھتے ہیں وہ اِس بات کاؔ بھی تصفیہ نہیں کر سکتے کہ درحقیقت اس کا دعویٰ الہام صحیح ہے یا دماغ میں خدانخواستہ کچھ خلل ہے۔ اور ملہم جو اپنے تئیں بوجہ الہام مطمئن سمجھتا ہے یہ اطمینان اُس کے بھی اعتماد کے لائق نہیں کیامعلوم کہ وہ درحقیقت مطمئن ہے یا یونہی خیال باطل میں مبتلا ہے۔ اس سے زیادہ ملہموں اوراُن لوگوں میں جو صوفی اور اہل اللہ کہلاتے ہیں اور کچھ نہیں کہ وہ اپنے ہی امور خیالیہ پرجو بے اصل محض ہیں جم جاتے ہیں اور اُن کو صحیح خیال کرنے لگتے ہیں اور ان کی ترقیات سلوک صرف اوہام کی ترقی ہے۔ الہام اور ملہم کی طرف نہ دین کے لئے اورنہ معاد کے لئے اور نہ تقرب الی اللہ کے لئے اور نہ تمیز حق اور باطل کے لئے ہمیں کچھ حاجت ہے گولوگ کسی ملہم کے گرد ایسے جمع ہوجائیں جیسے بُت پرست کسی بُت کے گرد۔ خلاصہ مطلب یہ کہ الہام بالکل بے سُود ہے اوراس کی صحت پرکوئی حجت نہیں۔ فافہم ھذا ما الھمنی ربی۔ تم کلامہ۔
یہ عاجز سیّد صاحب کے وساوس کے دور کرنے کے لئے سب سے اوّل اس بات کو ظاہرکرنا مناسب سمجھتا ہے کہ جو کچھ سید صاحب نے الہام کے بارے میں سمجھا ہے یعنی یہ کہ وہ صرف امور خیالیہ ہیں کہ فقط ملہمین کا دل ہیؔ انکا مُوجد ہوتا ہے۔ یہ سید صاحب کی رائے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اب تک اس تعلیم سے بے خبر ہیں کہ جوالہام یعنی وحی کے بارے میں اللہ جلَّ شَانُہٗ اور اس کے رسول نے فرمائی ہے۔ سو واضح ہو کہ قرآن کریم میں اس کیفیت کے بیان کرنے کے لئے جو مکالمہ الٰہی سے تعبیر کی جاتی ہے الہام کا لفظ اختیار نہیں کیا گیامحض لغوی طور پر ایک جگہ الہام کا لفظ آیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 3 ۱۔ سو اس کو مانحن فیہ سے کچھ تعلق نہیں۔ ا س کے