سیّد اؔ حمد خان صاحب کے۔ سی۔ایس۔ آئی کا الہام کی نسبت خیال
اور ہماری طرف سے جیساکہ واقعی امر ہے اُس کا بیان
3333 ۱ الجزو۵۔ آیت موصوفہ بالا کا ترجمہ یہ ہے کہ اے مسلمانو! اگر کسی بات میں تم میں باہم نزاع واقعہ ہو تو اس امر کو فیصلہ کے لئے اللہ اوررسول کے حوالہ کرواگر تم اللہ اور آخری دن پر ایمان لاتے ہو تو یہی کرو کہ یہی بہتر اور احسن تاویل ہے۔
اب جاننا چاہیئے کہ سیّد صاحب نے الہام کے بارہ میں اپنے پر چہ علی گڑھ گزٹ میں قرآن اور حدیث کے برخلاف رائے ظاہر کی ہے چنانچہ ان کی تحریر کا خلاصہ ذیل میں لکھاجاتا ہے اور وہ یہ ہے۔ جو بات یکایک دل میں آجاوے گو کسی امر سے متعلق ہو وہ الہام ہے۔ بشرطیکہ کوئی تعلیمؔ یا تعریف یا بیان اس طرف کو لے جانے والا نہ ہو۔ اس قسم کے الہامات کوئی عجیب شے نہیں ہیں بلکہ اکثروں کو ہوتے ہیں۔ منطقی کو منطق میں۔ فلسفی کو فلسفہ میں۔ طبیب کو علم طب اور تشخیص امراض میں۔ اہل حرفہ کو اپنے حرفہ میں وغیرہ ذالک۔ یہاں تک کہ وہ اسلام اور غیر اسلام پر بھی منحصر نہیں۔ بلکہ اس قسم کے الہامات ایک امر طبیعی انسان کا ہے جس میں اسلام کی ضرورت نہیں۔ ہاں ایسی خلقت کی ضرورت ہے کہ الہام ہونے کی قابلیت رکھتی ہو۔ الہام سے شاید بعض حالتوں میں اس شخص کو جس کو الہام ہو ا ہو کوئی طمانیت قلبی حاصل ہوتی ہو مگر اس سے کوئی ایسا نتیجہ جو دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا یقین دلانے والا تسکین بخشنے والا یا اُس واقعہ کی واقعیت اوراصلیت کو ثابت کرنے والا ہو پیدا نہیں ہوسکتا۔ سلسلہ الہامات کا زیادہ تر عرفانیات سے علاقہ رکھتا ہے جو محض تخیلات ہیں