تاجس کے شامل حال نصرت الٰہی ہو جاوے اور قبولیت کے آسمانی نشان اس کے لئے خدا کی طرف سے ظاہر ہوں وہ اس علامت سے لوگوں کی نظر میں اپنی قبولیت کے ساتھ شناخت کیاجاوے۔ اور جھوٹے کی ہر روزہ کشمکش سے لوگوں کو فراغت اور راحت حاصل ہو۔ اِس کے جواب میں مولوی صاحب موصوف اپنے اشتہار یکم اگست ۱۸۹۱ ء میں لکھتے ہیں کہ یہ درخواست اُس وقت مسموع ہوگی کہ جب تم اوّل اپنے عقائد کا عقائد اسلام ہونا ثابت کرو گے غیر مسلم ( یعنی جو مسلما ن نہیں )خواہ کتنا ہی آسمانی نشان دکھاوے اہل اسلام اسؔ کی طرف التفات نہیں کرتے۔ اب ناظرین انصافًا فرما ویں کہ جس حالت میں اسی ثبوت کے لئے درخواست کی گئی تھی کہ تا ظاہر ہوجاوے کہ فریقین میں سے حقیقی اور واقعی طور پر مسلمان کون ہے پھر قبل از ثبوت ایک مسلمان کو جو لا الٰہ الّا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کا قائل اور معتقد ہو غیر مسلم کہنا اور لَسْتَ مُسْلِمًا کر کے پکارنا کس قسم کی مسلمانی اور ایمانداری ہے۔ ماسوا اس کے اگر یہ عاجز بزعم مولوی محمد حسین صاحب کافر ہے۔ تو خیر وہ یہ خیال کرلیں کہ میری طرف سے جو ظاہر ہوگا وہ استدراج ہے۔ پس اس صورت میں بمقابل اس استدرا ج کے اُن کی طرف سے کوئی کرامت ظاہرہونی چاہیئے اور ظاہر ہے کہ کرامت ہمیشہ استدراج پر غالب آتی ہے۔ آخر مقبولوں کو ہی آسمانی مدد ملتی ہے۔ اگر میں بقول اُن کے مردود ہوں اوروہ مقبول ہیں تو پھر ایک مردود کے مقابل پر اتنا کیوں ڈرتے ہیں......اگر میں بقول ان کے کافر ہونے کی حالت میں کچھ دکھاؤں گا تو وہ بوجہ اولیٰ دکھلا سکتے ہیں مقبول جوہوئے۔ کہ مقبول رارد نباشد سخن ومن عادیٰ لی ولیًّا فقد اٰذنتہ للحرب۔ ابن صیّاد نے اگر کچھ دکھایا تھا تو کیا اس کے مقابل پر معجزات نبوی ظاہرنہیں ہوئے تھے اور کیا دجّال کے ساحرانہ کاموں کے مقابل پر عیسیٰ کے نشان مروی نہیں۔ ففرّوا این تفرّون!