گویا و ہ اُس ارض مقدس کے نیچے ہے نہ دجّال کے پاس۔ اور بیان کیا گیا ہے کہ اُسی میں سے اُس کا خروج ہوگا۔ اس استعارہ سے یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ دابۃ الارض درحقیقت اسم جسم۱؂ ایسے علماء کے لئے ہے جو ذوجہتین واقع ہیں۔ایک تعلق اُن کا دین اورحق سے ہے اورایک تعلق اُن کا دنیا اوردجالیت سےؔ ۔ اور آخری زمانہ میں ایسے مولویوں اور مُلّاؤں کا پیدا ہونا کئی جگہ بخاری میں لکھاہے۔ چنانچہ بیان کیاگیا ہے کہ وہ لوگ حدیث خیر البریّہ پڑھیں گے۔ اور قرآن کی بھی تلاوت کرتے ہوں گے لیکن قرآن اُن کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ سو یہ وہی زمانہ ہے انہیں لوگوں کی ملاقات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے اور فرمایا ہے فاعتزل تلک الفرق کلھا ولو ان تعض باصل شجرۃ حتّٰی یدرکک الموت وانت علٰی ذالک صفحہ ۵۰۹ بخاری۔ یہی لوگ ہیں کہ باوجودیکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ اور اُس کا مقدّس رسول سراسر مسیح ابن مریم کی وفات ظاہر کررہے ہیں۔ مگر پھر بھی ان کو فرمودۂ خدا و رسول پر اعتماد نہیں۔ حالانکہ حکم یہ تھا 3333 ۔ ۲؂ ماکان من شرط لیس فی کتاب اللّٰہ فھو باطل قضاء اللّٰہ احق۔ بخاری صفحہ۳۷۷۔ ما عندنا شئ الّا کتٰب اللّٰہ۔ بخاری صفحہ ۲۵۰۔ حسبکم القراٰن۔ بخاری ۱۷۲۔ اب ہم بطور نمونہ امام بخاری کے افادات کے بیان کرنے سے فارغ ہوئے او ر بیانات متذکرہ بالا سے ظاہر ہے کہ امام بخاری صاحب اوّلؔ درجہ پر ہمارے دعاوی کے شاہد اور حامی ہیں اور ہمارے مخالفوں کے لئے ہرگز ممکن نہیں کہ ایک ذرّہ بھر بھی اپنے خیالات کی تائید میں کوئی حدیث صحیح بخاری کی پیش کرسکیں۔ سو درحقیقت صحیح بخاری سے وہ منکر ہیں نہ ہم۔ بالآخر میں یہ بھی لکھنا چاہتا ہوں کہ میں نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے یہ درخواست کی تھی کہ اگر آپ مجھے مکاراور غیرمسلم خیال کرتے ہیں تو آؤ اس طریق سے بھی مقابلہ کر و کہ ہم دونوں نشان قبولیت کے ظاہر ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کی طر ف رجوع کریں