حین یولد الامریم وابنھا اور حدیث باصبعیہ ...غیر عیسٰی کو متعارض حدیثوں کے ساتھ ذکر کرؔ کے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ابن مریم سے مراد ہریک وہ شخص ہے جو اس کی صفت اوررنگ میں ہو۔ اورمتعارض حدیثیں یہ ہیں دیکھو صفحہ ۴۶۴ اور حدیث صفحہ ۷۷۶ جس کے آخیر ہے لم یضرہ شیطان۔ ماسوا اس کے آیت 33 ۱؂ اور آیت3 ۲؂ صاف دلالت کررہی ہے کہ مس شیطان سے محفوظ ہونا ابن مریم سے مخصوص نہیں۔ اور زمخشری کا یہ طعن کہ حدیث خصوصیت ابن مریم دربارہ محفوظیت از مس شیطان جو امام بخاری اپنی صحیح میں لایا ہے نقص سے خالی نہیں۔ اور اس کی صحت میں کلام ہے جیسا کہ خود اُس نے بیان کیا ہے فضو ل ہے۔ کیونکہ عمیق نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بزرگ بخاری نے خود اشارہ کر دیا ہے کہ ابن مریم اور اس کی والدہ سے مرا د ہر یک ایسا شخص ہے جو ان دونوں کی صفتیں اپنے اندر جمع رکھتا ہو۔ فلا تناقض ولاتعارض۔ اور جبکہ یہ ثابت ہوا کہ کلام نبوی میں غیر عیسیٰ پر عیسیٰ یاابن مریم کابولا گیا ہے تو یہ محاورہ اور بھی مؤیّد ہمارے مطلب کا ہوگا۔ احادیث نبویہ میں یہ بھی ایک محاورہ شائع متعارف ہے کہ بعض کا بعض صفات کے لحاظ سے ایک ایسا ؔ نام رکھا جاتاہے جو بظاہر وہ کسی دوسرے کا نام ہے جیسا کہ صفحہ ۵۲۱ میں یہ حدیث ہے لقدکان فیما کان قبلکم من الامم ناس محدثون فان یک فی اُمّتی احد فانہ عمر دیکھو صفحہ ۵۲۱ بخاری۔ اب ظاہر ہے کہ محدثیت حضرت عمر میں محدود نہیں۔ سو حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جو محدث ہوگا وہ اپنی روحانی صفات کی رو سے عمر ہی ہوگا۔ ایسا ہی احادیث میں دابۃ الارض کو بھی ایک خاص نام رکھ کر بیان کیا ہے لیکن احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی استعمال کی رُو سے عام ہے اور دابۃ الارض کو صحیح مسلم میں ایسے پیرایہ سے ذکر کیاگیا ہے کہ ایک طرف تو اس کو دجّال کی جساسہ ٹھہرادیاگیاہے اور اُسی کی رفیق اوراسی جزیرہ میں رہنے والی جہاں وہ ہے۔ اور ایک طرف حرم مکہ معظمہ میں صفا کے نیچے اس کو جگہ دے رکھی ہے