اُن کے مواضع سے کیوں پھیرتے ہو۔ و قد حرَّفتم و انتم تعلمون۔
سوم قرینہ جو امام بخاری نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ آنے والے مسیح اور اصل مسیح ابن مریم کے حُلیہ میں جابجا التزام کامل کے ساتھ فرق ڈال دیا ہے۔ ہرایک جگہ جو اصل مسیح ابن مریم کا حلیہ لکھاہے۔ اس کے چہرہ کو احمر بیان کیا ہے اور ہر یک جگہ جو آنے والے مسیح کا حلیہ بقول آنحضرت صلعم بیان فرمایا ہے اس کے چہرہ کو گندم گوں ظاہرکیا ہے اورکسی جگہ اس التزام کو ہاتھ سے نہیں دیا۔ چنانچہ صفحہ ۴۸۹ میں دوحدیثیں امام بخاری لایاہے۔ ایک ابوہریرہ سے اور ایک ابن عمر سے۔ اور اُن دونوں میں یہ بیان ہے کہ معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ کو جو اصل عیسیٰ ہے دیکھا اور اس کو سُرخ رنگ پایا۔ اور پھر اس کے آگے اَبی سَالم سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کو خواب میں دیکھاؔ اور اس کا گندم گُوں حُلیہ بیان کیا۔ پھر صفحہ ۱۰۵۵ میں ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آنے والے مسیح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ گندم گوں ہے اور دجّال کو سرخ رنگ دیکھا ( جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ سرخ رنگ قوم سے پیدا ہوگا) اور صفحہ ۴۸۹ میں عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے ابن مریم کو گندم گوں دیکھا۔ اسی طرح امام بخاری نے اپنی کتاب میں یہ التزام کیا ہے کہ وہ اصل مسیح کے حُلیہ کو بروایت ثقات صحابہ سرخ بیان کرتے ہیں اور آنے والے مسیح کا حلیہ گندم گوں ظاہر کرتے ہیں جس سے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ آنے والا مسیح اَور ہے۔چنانچہ امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب اللباس میں بھی آنے والے مسیح کا حلیہ گندم گوں لکھاہے۔ دیکھو صفحہ ۸۷۶کتاب اللباس۔
او رمنجملہ افادات امام بخاری کے یہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو جو صحیح بخاری کے صفحہ ۶۵۲ اور ۴۶۴ میں ہے یعنی حدیث ما من مولود یولد الا والشیطٰن یمسّہٗ