کہ مسیح ابن مریم فوت ہوگیا اور فوت شدہ بندوں میں جاملا۔پھراس پیشگوئی کی نسبت جو اُن کی صحیح میں درج ہے کہ ابن مریم نازل ہوگا۔ تین قوی قرینے قائم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ آنے والا ابن مریم ہرگز وہ مسیح ابن مریم نہیں ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ چنانچہ اوّل قرینہ یہ لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لانبی بعدی۔ صفحہ ۶۳۳۔ دوم قرینہ یہ ہے کہ آنے والے مسیح کی نسبت اِمامکم منکم کا قولؔ استعمال کیا گیا ہے جس سے صاف طورپرجتلا دیا ہے کہ وہ مسیح آنے والا اصل مسیح نہیں ہے بلکہ وہ تمہارا ایک امام ہوگااور تم میں سے ہو گا۔ اور کسی اَور امام کا مسیح کے ساتھ ہونا ہرگز ذکر نہیں کیا۔ بلکہ امامت کی وجہ سے ہی مسیح موعود کانام حَکَم رکھا عدل رکھا مُقسط رکھا۔ اگر وہ امام نہیں تو یہ صفات جو امامت سے ہی تعلق رکھتی ہیں کیوں کر اس کے حق میں بولی جاسکتی ہیں۔ اور اگر کہو کہ امامت سے مراد نماز خوانی کی امامت ہے جیسا کہ ہریک مسجد میں ملّاں ہواکرتے ہیں تو یہ عجیب عقل کی بات ہے۔ کیونکہ یہ تو ہرگز ممکن نہیں کہ ۲۰ بیس کروڑ مسلمانوں کے لئے جو مختلف بلاد میں جابجا سکونت رکھتے ہیں پنجوقت نماز ادا کرنے کے لئے ایک ہی امام کافی ہو۔ بلکہ بڑے بڑے لشکروں کے لئے بھی جو جابجا حسب مصالح جنگی متفرق ہوں ایک امام کافی نہیں ہوسکتا۔ سو نماز پڑھانے کی امامت جیسا کہ آج کل لاکھوں آدمی کرا رہے ہیں یہی تعداد ہریک زمانہ کے لئے لابدی اور لازمی ہے جو صرف ایک سے انجام پذیر نہیں ہوسکتی۔ بلکہ امام سے مراد رہنما اور پیشوا اورخلیفہ ہے جس کی صفات میں سے حَکَم اور عدل اور مقسط ہونا بیان کیاگیا ہے۔اب آنکھ کھول کر دیکھنا چاہیئے کہ یہ صفات بخاریؔ کے سیاق سباق دیکھنے سے مسیح موعود کے حق میں اطلاق پائے ہیں یا کسی اور کے حق میں۔ اے بندگانِ خدا کچھ تو ڈرو۔ دیکھو تمہارا دل ہی تمہیں ملزم کرے گا کہ تم حق پر پردہ ڈال رہے ہو۔ ڈرو۔ اے لوگوڈرواور خدا اور رسول کے فرمودہ سے عمدًا انحراف مت کرو اور الحاد اور تحریف سے باز آجاؤ۔ اللہ اور رسول کے کلمات کو