اُن میں داخل ہوگیا اورؔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں فوت شدہ جماعت میں اُس کو پایا۔ دیکھو بخاری صفحہ ۵۰ اورصفحہ ۴۵۵ و صفحہ ۴۷۱ و صفحہ۵۴۸و۱۱۲۰۔ اور اِن احادیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ وہ سب نبی اگرچہ دنیوی زندگی کی روسے مرگئے اور ا س جسم کثیف ا ور اس کے حیات کے لوازم کو چھوڑ گئے لیکن اس عالم میں ایک نئی زندگی جس کو روحانی کہنا چاہیئے رکھتے ہیں۔ اور کیا مسیح اور کیا غیر مسیح برابر اور مساوی طور پر اس نئی زندگی کے لوازم اپنے اندرجمع رکھتے ہیں۔ یہی منشاء انجیل میں پطرس کے پہلے خط کا ہے۔چنانچہ وہ کہتا ہے کہ وہ یعنی مسیح جسم کے حق میں تو مارا گیا لیکن روح میں زندہ کیاگیا۔ یعنی موت کے بعد مسیح کو روحانی زندگی ملی ہے نہ جسمانی۔دیکھوپطرس کا پہلاخط تین باب اُنیس آیت۔ اور عبرانیوں کے خط نو ۹باب ستائیس آیت میں لکھا ہے کہ آدمیوں کے لئے ایک بار مرنا ہے ایسا ہی بائبل کے بہت سے مقامات میں موجود ہے کہ راستبازوں کے لئے ایک موت کے بعد پھر حیات ابدی ہے۔ اب اس بات کے ثابت ہونے کے بعد کہ مسیح مر گیا اور روح اس کی فوت شدہ روحوں میں داخل ہے۔ اگر فر ض محال کے طور پر پھر اس کا زندہ ہو کر دنیا میں آناقبول کرلیں تو آسمان سے اُترنا اس کا بہرحال غیر مسلّم ہو گا۔ کیونکہ ثابت ہوچکاکہ آسمان پر مرنے کے بعد صرف اسؔ کی روح گئی جو دوسری روحوں میں شامل ہو گئی۔ ہاں اس فرض کے بناء پر یہ کہناپڑے گا کہ کسی وقت اس کی قبر پھٹ جائے گی اور اس میں سے باہر آجائے گا اور یہ کسی کا اعتقاد نہیں۔ ماسوااس کے ایک موت کے بعد پھر دوسری موت ایک عظیم الشان نبی کے لئے تجویز کرنا خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کے برخلاف ہے۔اورجوشخص ایک مرتبہ مسیح کو مار کر پھر قیامت کے قریب اسی دنیا میں لاتا ہے اُس کی یہ مرضی ہے کہ سب کے لئے ایک موت او رمسیح کے لئے دوموتیں ہوں جس نے دنیا میں کسی جسم اور صورت میں جنم لیا وہ موت سے بچ نہیں سکتا۔ دیکھو خط دوم پطرس ۳ باب ۱۰ آیت۔
او رمنجملہ افادات امام بخاری کے ایک یہ ہے کہ انہوں نے قطعی طور پر اس بات کافیصلہ دیکر