اور محاورہ اہل عرب میں خَلَا یا خَلَتْ ایسے لوگوں کے گذرنے کو کہتے ہیں جو پھر آنیوالے نہ ہوں۔ پس تمام رسولوں کی نسبت جو آیت موصوفہ بالا میں خَلَتْ کا لفظ استعمال کیاگیا وہ اسی لحاظ سے استعمال کیا گیاتااس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ لوگ ایسے گئے ہیں کہ پھر دنیا میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ چونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال یافتہ ہونے کی حالت میں آپ کے چہرہ مبارک کو بوسہ دے کر کہا تھا کہ تُو حیات اور موت میں پاک ہے تیرے پر دوموتیں ہرگز وارد نہیں ہوں گی یعنی تو دوسری مرتبہ دنیا میں ہرگز نہیں آئے گا۔اس لئے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول کی تائید میں آیت قرآن کریم کی پیش کی۔ جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ سب رسول جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تھے گذرچکے ہیں اور جو رسول اس دنیا سے گذر گئے ہیں پھر اس دنیا میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ کیونکہؔ جیساکہ قرآن شریف میں اَور فوت شدہ لوگوں کی نسبت خَلَوْایا خَلَتْ کا لفظ استعمال ہواہے۔ ایساہی یہی لفظ نبیوں کے حق میں بھی استعمال ہواہے۔اور یہ لفظ موت کے لفظ سے اخص ہے کیونکہ اس کے مفہوم میں یہ شرط ہے کہ اس عالم سے گذر کر پھر اس عالم میں نہ آوے۔غرض امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس جگہ فوت شدہ نبیوں کے دوبارہ نہ آنے کے بارے میں اوّل قول ابوبکر صدیق کا پیش کیا جس میں یہ بیان ہے کہ خدا تیرے پر دوموتیں جمع نہیں کرے گا۔ کیونکہ دوبارہ آنا دوموتوں کو مستلزم ہے۔ اور پھر اس بارے میں قرآن کریم کی آیت پیش کی اور یہ ثبوت دیاکہ خَلَا اس گذرنے کو کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد عود نہ ہو۔ اس تحقیق وتدقیق سے کمالاتِ امام بخاری ظاہر ہیں۔ جزاہ اللّٰہ خیرالجزاء وادخلہ اللّٰہ فی الجنّات العلیا۔
اور منجملہ افادات امام بخاری کے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح میں پانچ حدیثیں ذکر کر کے متفرق طرق اور متفرق راویوں کے ذریعہ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مسیح ابن مریم اپنی موت کے بعد اموات میں جاملا اور خداتعالیٰ کے بزرگ نبی جو اس دنیا سے گذر چکے ہیں