عمدہ اور بلیغ مجازی کلمات کو حقیقت پر اُتارنا گویا ایک خوبصورت معشوق کا ایک دیو کی شکل میں خاکہ کھینچنا ہے بلاغت کا تمام مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے اسی وجہ سے خداتعالیٰ کے کلام نے بھی جو ابلغ الکلم ہے جس قدر استعاروں کو استعمال کیا ہے اور کسی کے کلام میں یہ طرز لطیف نہیں ہے۔ اب ہر جگہ اور ہر محل میں ان پاکیزہ استعاروں کو حقیقت پر حمل کرتے جانا گویا اس کلام معجز نظام کو خاک میں ملا دینا ہے۔ پس اِس طریق سے نہ صرف خداتعالیٰ کے پُربلاغت کلام کا اصلی منشا درہم برہم ہوتا ہے بلکہ ساتھ ہی اس کلام کی اعلیٰ درجہ کی بلاغت کو برباد کر دیا جاتا ہے خوبصورت اور دلچسپ طریقے تفسیر کے وہ ہوتے ہیں جن میں متکلم کی اعلیٰ شان بلاغت اور اس کے روحانی اور بلند ارادوں کا بھی خیال رہے نہ یہ کہ نہایت درجہ کے سفلی اور بدنما اور بے طرح موٹے معنے جو ہجو ملیح کے حکم میںہوں اپنی طرف سے گھڑے جائیں اور خدائے تعالیٰ کے پاک کلام کو جو پاک اور نازک دقائق پر مشتمل ہے صرف دَہقانی لفظوں تک محدود خیال کرلیا جائے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ ان نہایت دقیق اسرار کے مقابلہ پر جو خداتعالیٰ کے کلام میں ہونے چاہئیں اور بکثرت ہیں کیوں بد شکل اور موٹے اور کریہہ معنے پسند کئے جاتے ہیں؟ اور کیوں ان لطیف معنوں کی وقعت نہیں جو خدا ئے تعالیٰ کی حکیمانہ شان کے موافق اور اس کے عالی مرتبہ کلام کے مناسب حال ہیں؟ اور ہمارے علماءکے دماغ اس بے وجہ سرکشی سے کیوں پُر ہیں کہ وہ الٰہی فلسفہ کے نزدیک نہیں آنا چاہتے! جن لوگوں نے ان تحقیقوں میں اپنا خون اور پسینہ ایک کر دیا ہے ان کو بے شک ہمارے اس بیان سے نہ انکار بلکہ مزہ آئے گا۔ اور ایک تازہ صداقت ان کو ملے گی جس کو وہ بڑی مَدّوشَدّ کے ساتھ قوم میں بیان کرینگے اور پبلک کو ایک روحانی فائدہ پہنچائیں گے لیکن جنہوں نے صرف سرسری نگاہ تک اپنی فکر اور عقل کو ختم کر رکھا ہے وہ بجز اس کے کہ ناحق کے اعتراضات کی میزان بڑہاویں اور بے جا رست خیز قائم کریں اور کچھ اسلا م کو اپنے وجود سے فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔
اب ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ہادی اور سیّد مولیٰ جناب ختم المرسلین نے